مسجد کے ممبر اور متولی کیسے ہوں۔۔۔؟
آفتاب عالم پٹیل شاہ نوری
کروشی ، بلگام ، کرناٹک
8105493349
قرآنِ عظیم الشان میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ
مُبٰرَکًا وَّھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ۔
(آلِ
عمران: 96)
ترجمہ: بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر
ہوئی، وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے۔ اسے برکت دی گئی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکزِ
ہدایت بنایا گیا۔مساجد اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں۔ ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اللہ
کے گھر کا خادم بنے، لیکن مسجد کی خدمت اور اس کے انتظام کی ذمہ داری ایک بہت بڑی امانت
ہے۔ مسجد کا ممبر یا متولی بننا صرف ایک عہدہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے
سامنے ایک ذمہ داری قبول کرنا ہے۔ہمارے معاشرے میں بعض مقامات پر مسجد کی کمیٹی یا
ممبران کے انتخاب کے لیے باقاعدہ اصول و ضوابط موجود ہوتے ہیں، لیکن اکثر لوگوں کو
ان اصولوں اور ذمہ داریوں کی مکمل معلومات نہیں ہوتیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ممبر یا
متولی کے انتخاب سے پہلے اس بات پر غور کیا جائے کہ جس شخص کو یہ ذمہ داری دی جا رہی
ہے، کیا وہ واقعی اس کا اہل ہے؟
کروشی کی مسجد کمیٹی کا ایک منفرد نظام
کرناٹک کے ضلع بلگام، تعلقہ چکوڑی میں واقع کروشی ایک تاریخی
بستی ہے، جو تقریباً 550 سال سے آباد ہے۔ اس بستی میں کئی مساجد موجود ہیں، لیکن یہاں
کی جامع مسجد کے ممبران اور متولی کا کردار صرف مسجد کے انتظام تک محدود نہیں رہا،
بلکہ برسوں سے وہ گاؤں کے دینی، سماجی اور بعض اجتماعی معاملات میں بھی اہم کردار ادا
کرتے آئے ہیں۔
کروشی میں پٹیل برادری کے چھ بڑے خاندان ہیں، جنہیں مقامی
زبان میں گڈا کہا جاتا ہے۔ ہر گڈے سے باہمی مشورے کے ذریعے ایک ممبر منتخب کیا جاتا
ہے۔ اس کے علاوہ گاؤں کی دیگر برادریوں کی جانب سے تین ممبران منتخب کیے جاتے ہیں۔
اس طرح کل نو ممبران ہوتے ہیں۔ پھر یہی ممبران باہمی مشورے سے اپنے درمیان سے ایک متولی
کا انتخاب کرتے ہیں۔یہ طریقۂ کار گزشتہ کئی برسوں سے رائج ہے۔چونکہ پرانی کمیٹی کی
مدت مکمل ہو چکی ہے اور بروز اتوار، 27 ستمبر 2026ء کو نئے ممبران کے انتخاب کا عمل
ہونے والا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ افراد انتخاب سے پہلے اس بات پر غور
کریں کہ مسجد کی خدمت کے لیے کس قسم کے لوگوں کا انتخاب کیا جائے۔
یہ مضمون کسی فرد کی حمایت یا مخالفت کے لیے نہیں، بلکہ
اس مقصد سے تحریر کیا گیا ہے کہ مسجد کے خادم کا انتخاب کرتے وقت اہلیت، دیانت، تقویٰ،
اخلاق اور خدمتِ خلق کو سامنے رکھا جائے۔
ممبر کا انتخاب ایک امانت ہے
ممبر یا متولی کی ذمہ داری بہت اہم ہے۔ اس منصب کو قبول
کرنے سے پہلے انسان کو اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے:
کیا میں واقعی اس ذمہ داری کے لائق ہوں؟ کیا میں مسجد اور
مسلمانوں کے معاملات میں عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کر سکوں گا؟ کیا میں ذاتی تعلقات،
خاندان، برادری یا مفاد سے بالاتر ہو کر کام کر سکوں گا؟
کیونکہ دنیا میں یہ عہدہ چند سال کے لیے ہوسکتا ہے، لیکن
آخرت میں اس ذمہ داری کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دینا ہوگا۔
مسجد کا ممبر کیسا ہونا چاہیے؟
1۔ نماز کا پابند ہو
جس مسجد کا ممبر بننے جا رہا ہو، اس سے اس مسجد سے عملی
تعلق ہونا چاہیے۔ کم از کم باقاعدگی سے نمازیں اسی مسجد میں ادا کرتا ہو اور مسجد کو
صرف عہدہ حاصل کرنے کے وقت یاد نہ کرتا ہو۔
2۔ دین کا بنیادی علم رکھتا
ہو
دین کے بنیادی مسائل، نماز، روزہ، زکوٰۃ، اخلاق اور اسلامی
معاشرت کے ضروری احکام سے واقف ہو۔ اگر کسی مسئلے کا علم نہ ہو تو علماء سے رجوع کرنے
میں جھجھک محسوس نہ کرے۔
3۔ مخلص اور دیانت دار
ہو
مسجد کے مال، چندے، عطیات اور دیگر وسائل کو امانت سمجھے۔
مالی معاملات میں مکمل شفافیت اختیار کرے۔
4۔ شریعت کا پابند ہو
اپنی ذاتی زندگی میں بھی اسلامی احکام اور اخلاق کا لحاظ
رکھتا ہو۔ ایسا نہ ہو کہ مسجد کی ذمہ داری تو سنبھالے لیکن اپنی عملی زندگی میں اس
کے برخلاف کردار پیش کرے۔
5۔ اوقاف کے قوانین سے
واقف ہو
مسجد اور وقف سے متعلق بنیادی قوانین و ضوابط سے واقف ہونا
ضروری ہے۔ اگر پہلے سے معلومات نہ ہوں تو ممبر بننے کے بعد انہیں سیکھنے کی کوشش کرے۔
6۔ سماج میں اچھی ساکھ
رکھتا ہو
لوگ اس کی بات اعتماد سے سنیں اور اس کے کردار پر عمومی
اعتماد ہو۔ اس کی زندگی ایسی ہو کہ اسے مسجد کی نمائندگی کرتے ہوئے شرمندگی محسوس نہ
ہو۔
7۔ بڑے گناہوں سے بچنے
والا ہو
شراب، جوا، سود، زنا اور دیگر کبیرہ گناہوں سے بچنے والا
ہو اور اپنی زندگی کو برائیوں سے پاک رکھنے کی کوشش کرتا ہو۔
8۔ حالاتِ حاضرہ پر نظر
رکھتا ہو
گاؤں اور معاشرے میں پیدا ہونے والے نئے مسائل، نوجوانوں
کے مسائل، تعلیمی مسائل اور معاشرتی برائیوں سے باخبر ہو۔
9۔ برائی کے خلاف آواز
اٹھانے کا حوصلہ رکھتا ہو
غلط کام کو غلط کہنے کی ہمت رکھتا ہو، لیکن اصلاح کا طریقہ
حکمت، نرمی اور مناسب قانونی و سماجی طریقے کے مطابق اختیار کرے۔
10۔ پختگی اور تجربہ رکھتا
ہو
عمر کے ساتھ تجربہ اور معاملہ فہمی بھی اہم ہے۔ تاہم صرف
عمر ہی اہلیت کا معیار نہیں، بلکہ کردار، صلاحیت، دیانت اور خدمت کا جذبہ بھی ضروری
ہے۔
11۔ وقت دینے والا ہو
مسجد کی انتظامی ضرورت کے وقت دستیاب ہو اور صرف نام کا
ممبر نہ ہو۔
12۔ تعلیمی شعور رکھتا ہو
تعلیم کی اہمیت کو سمجھتا ہو اور بچوں، نوجوانوں اور بڑوں
کی دینی و عصری تعلیم کے فروغ میں دلچسپی رکھتا ہو۔
13۔ اتحاد پیدا کرنے والا
ہو
لوگوں کو جوڑنے والا ہو، خاندانوں اور برادریوں میں اختلاف
پیدا کرنے والا نہ ہو۔
14۔ مشورے کی اہمیت سمجھتا
ہو
ہر فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کے بجائے علماء، تجربہ کار افراد
اور دیگر ممبران سے مشورہ کرنے والا ہو۔
15۔ تنقید برداشت کرنے کی
صلاحیت رکھتا ہو
مسجد کا ممبر بننے کے بعد ہر شخص اس سے اتفاق نہیں کرے گا۔
اس لیے اختلافِ رائے کو برداشت کرنے اور دلیل کے ساتھ بات کرنے کی صلاحیت ضروری ہے۔
متولی کیسا ہونا چاہیے؟
متولی کی ذمہ داری ممبر سے بھی زیادہ اہم ہوتی ہے، کیونکہ
وہ مسجد کے انتظامی معاملات میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
متولی میں یہ اوصاف ہونا چاہیے:
1. تقویٰ
اور اللہ کا خوف رکھتا ہو۔
2.
دین کا درد اور مسجد کی خدمت کا حقیقی جذبہ رکھتا ہو۔
3.
امانت دار اور دیانت دار ہو۔
4.
مسجد کے مال اور چندے کو ذاتی مال نہ سمجھے۔
5.
عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے۔
6.
کسی خاندان، برادری یا ذاتی تعلق کی بنیاد پر ناانصافی نہ
کرے۔
7.
علماء، ائمہ، خطباء اور دینی شخصیات کا احترام کرے۔
8.
تمام برادریوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
9.
مسجد کے معاملات میں شفافیت قائم رکھے۔
10.
آمدنی اور اخراجات کا باقاعدہ حساب رکھے۔
11.
اہم معاملات میں کمیٹی سے مشورہ کرے۔
12.
مسجد کے مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کرے۔
13.
اختلافات کو بڑھانے کے بجائے ختم کرنے کی کوشش کرے۔
14.
نوجوان نسل کو مسجد اور دینی ماحول سے جوڑنے کی فکر رکھے۔
15.
ذاتی مفاد کے بجائے مسجد، دین اور معاشرے کے مفاد کو ترجیح
دے۔
ممبران اور متولی کی مشترکہ ذمہ داریاں
مسجد کمیٹی صرف نماز کی جگہ کے انتظام کا نام نہیں۔ ایک
مضبوط اور ذمہ دار کمیٹی مسجد کو پورے معاشرے کی اصلاح کا مرکز بنا سکتی ہے۔
1۔ مسجد کی صفائی اور پاکیزگی
مسجد، وضو خانے، بیت الخلاء، صحن اور دیگر حصوں کی صفائی
کا مستقل انتظام کیا جائے۔
2۔ امام اور خطیب کا احترام
امام و خطیب کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کیا جائے۔ ان
کی ضروریات اور مسائل کو سنجیدگی سے سنا جائے۔
3۔ دینی سرگرمیوں کی حوصلہ
افزائی
مسجد میں درسِ قرآن، درسِ حدیث، سیرتِ نبوی ﷺ، اصلاحی بیانات
اور دیگر مفید دینی پروگراموں کا انتظام کیا جائے۔
4۔ بچوں کے مکاتب کو مضبوط
کیا جائے
بچوں کے مکاتب میں معیاری تعلیم، مناسب اساتذہ اور ضروری
تعلیمی سہولیات کا انتظام کیا جائے۔
5۔ بڑوں کے لیے مکتب شروع
کیے جائیں
جو لوگ قرآنِ پاک، نماز اور دینی بنیادی مسائل نہیں جانتے،
ان کے لیے بالغوں کے مکتب یا شام کی دینی کلاسیں شروع کی جائیں۔
6۔ شاندار کتب خانے کا
قیام
مسجد کے احاطے میں ایک اچھے کتب خانے کا قیام عمل میں لایا
جائے، جہاں دینی، ادبی، تاریخی، تعلیمی اور معلوماتی کتابیں موجود ہوں۔ ضرورت ہو تو
ایک مستقل لائبریرین کا بھی انتظام کیا جائے۔
7۔ نوجوان نسل پر خصوصی
توجہ
کالج اور یونیورسٹی میں پڑھنے والے نوجوانوں کے لیے خصوصی
پروگرام، مطالعاتی نشستیں، تربیتی مجالس اور رہنمائی کا انتظام کیا جائے۔
8۔ معاشرتی برائیوں کی
روک تھام
شراب، جوا، سود، منشیات اور دیگر معاشرتی برائیوں کے خلاف
اصلاحی مہم چلائی جائے۔ اصلاح کا طریقہ حکمت، قانون اور مناسب سماجی ذرائع کے مطابق
ہو۔
9۔ شادی بیاہ کی خرافات
کی اصلاح
شادی، منگنی اور دیگر تقریبات میں فضول خرچی، غیر ضروری
رسم و رواج اور ایسی خرافات کی حوصلہ شکنی کی جائے جو دینی یا معاشرتی طور پر نقصان
دہ ہوں۔
10۔ ضرورت مندوں کی مدد
بیواؤں، یتیموں، معذوروں، غریب خاندانوں اور دیگر ضرورت
مند افراد کی باعزت طریقے سے مدد کا نظام بنایا جائے۔
11۔ اجتماعی زکوٰۃ کا نظام
شرعی اصولوں اور مستند علماء کی رہنمائی میں اجتماعی زکوٰۃ
کے نظام پر غور کیا جائے تاکہ مستحقین تک زکوٰۃ منظم اور شفاف طریقے سے پہنچ سکے۔
12۔ قبرستان کی دیکھ بھال
قبرستان کی صفائی، راستوں کی دیکھ بھال اور ضروری انتظامات
کا مستقل نظام بنایا جائے۔
13۔ مالی معاملات میں شفافیت
مسجد کی آمدنی، چندہ اور اخراجات کا باقاعدہ حساب رکھا جائے
اور مناسب طریقے سے اہلِ مسجد کے سامنے حساب پیش کیا جائے۔
14۔ مسجد کی ضروریات کا
ریکارڈ
مسجد کی عمارت، بجلی، پانی، صفائی، قالین، پنکھے، لائٹس،
وضو خانے اور دیگر ضروریات کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے۔
15۔ ہنگامی حالات کے لیے
انتظام
آگ، بجلی، طبی ہنگامی صورتِ حال یا دیگر حادثات سے نمٹنے
کے لیے بنیادی حفاظتی انتظامات کیے جائیں۔
16۔ خواتین اور بچوں کی
دینی ضروریات
مقامی حالات، شرعی اصولوں اور مناسب انتظام کے مطابق خواتین
اور بچوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے الگ اور محفوظ انتظامات پر توجہ دی جائے۔
17۔ مستحق طلبہ کی مدد
غریب اور مستحق طلبہ کی تعلیمی ضروریات، کتابوں، فیس اور
دیگر جائز تعلیمی اخراجات میں مدد کا نظام بنایا جائے۔
18۔ روزگار اور ہنر کی رہنمائی
ضرورت مند نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور مقابلہ جاتی
امتحانات کے بارے میں رہنمائی فراہم کرنے کے لیے اہل افراد سے تعاون لیا جائے۔
19۔ اختلافات کا حل
گاؤں میں پیدا ہونے والے باہمی اختلافات کو بڑھانے کے بجائے
علماء، بزرگوں اور ذمہ دار افراد کی مدد سے صلح و اصلاح کی کوشش کی جائے۔
20۔ مسجد کو مرکزِ اصلاح
بنایا جائے
مسجد صرف نماز پڑھنے کی جگہ نہ رہے، بلکہ تعلیم، تربیت،
اصلاح، اتحاد اور خدمتِ خلق کا مرکز بنے۔
21۔ بیرونِ وطن اہلِ وطن
سے رابطہ
جو لوگ گاؤں سے باہر یا بیرونِ ملک رہتے ہیں، ان کے لیے
مناسب اور شفاف نظام بنایا جائے تاکہ وہ مسجد اور گاؤں کی دینی و فلاحی سرگرمیوں سے
باخبر رہیں اور اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کرسکیں۔
22۔ آئندہ نسل کے لیے منصوبہ
بندی
کمیٹی صرف موجودہ مسائل حل کرنے تک محدود نہ رہے بلکہ آئندہ
دس یا بیس سال کے لیے مسجد، مکتب، کتب خانے، قبرستان اور فلاحی کاموں کی منصوبہ بندی
بھی کرے۔
مسجد کی ذمہ داری سنبھالنے والے افراد کو خاص طور پر ان
باتوں سے بچنا چاہیے:
- چندے
اور عطیات کے استعمال میں بے احتیاطی نہ کی جائے۔
-
امام، علماء یا دیگر ممبران کی بے عزتی نہ کی جائے۔
-
اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی نہ بنایا جائے۔
-
ہر معاملے میں اپنی مرضی مسلط نہ کی جائے۔
-
مسجد کے نام پر ہونے والی آمدنی اور اخراجات کو غیر واضح
نہ رکھا جائے۔
-
نوجوانوں کو مسجد سے دور کرنے والی سختی یا غیر ضروری رویہ
اختیار نہ کیا جائے۔
-
مسجد کو سیاسی یا ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنے سے گریز
کیا جائے۔
-
جو کام شرعی، قانونی یا انتظامی طور پر واضح نہ ہو، اس میں
اہلِ علم اور متعلقہ ماہرین سے مشورہ کیا جائے۔
ممبر منتخب کرنے والوں کی ذمہ داری
جس طرح ممبر اور متولی کی ذمہ داری ہے، اسی طرح ممبر منتخب
کرنے والوں کی ذمہ داری بھی بہت بڑی ہے۔
کسی شخص کو صرف اس لیے ممبر نہ بنایا جائے کہ وہ ہمارا رشتہ
دار ہے، ہمارے خاندان سے تعلق رکھتا ہے، ہمارا دوست ہے یا ہمارے ساتھ زیادہ میل جول
رکھتا ہے۔
بلکہ یہ دیکھا جائے کہ:
کون زیادہ دیانت دار ہے؟
کون زیادہ ذمہ دار ہے؟
کون مسجد کو وقت دے سکتا ہے؟
کون اختلافات کو ختم کرسکتا ہے؟
کون عدل و انصاف سے کام لے سکتا ہے؟
کون تمام برادریوں کو ساتھ لے کر چل سکتا ہے؟
اور کون اللہ کے گھر کی امانت کا حق ادا کرسکتا ہے؟
انتخاب کرتے وقت ذاتی پسند اور ناپسند سے زیادہ اہلیت، دیانت،
تقویٰ، خدمت اور صلاحیت کو ترجیح دینی چاہیے۔
مسجد کا ممبر یا متولی بننا عزت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں
بلکہ خدمت اور جواب دہی کی ذمہ داری ہے۔
اگر کسی شخص کو محسوس ہو کہ وہ اس ذمہ داری کے لیے وقت نہیں
دے سکتا، مالی معاملات میں مکمل شفافیت نہیں رکھ سکتا، اختلافات میں انصاف نہیں کرسکتا
یا لوگوں کو ساتھ لے کر نہیں چل سکتا تو اسے خود اس ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے پر غور
کرنا چاہیے۔
اسی طرح کسی شخص کو صرف اس لیے ذمہ داری نہیں دی جانی چاہیے
کہ وہ عمر میں بڑا ہے یا کسی خاص خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ تجربہ یقیناً اہم ہے، لیکن
اہلیت، کردار، دیانت اور خدمت کا جذبہ بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
مسجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہے اور اس کی خدمت بہت بڑی سعادت
بھی ہے اور بہت بڑی ذمہ داری بھی۔
27 ستمبر
2026ء کو ہونے والے انتخاب میں جس شخص کو بھی مسجد کی ذمہ داری دی جائے، اس کے انتخاب
کے وقت یہ ضرور سوچا جائے کہ ہم کسی شخص کو صرف ممبر منتخب نہیں کر رہے، بلکہ اللہ
کے گھر کی ایک امانت اس کے سپرد کر رہے ہیں۔
آج ہمارا فیصلہ چند سال کے لیے ہوگا، لیکن کل اللہ تعالیٰ
کے حضور اس فیصلے کے بارے میں سوال ہوسکتا ہے۔
اس لیے ہمیں نہ خاندان دیکھنا چاہیے، نہ ذاتی تعلق، نہ دوستی،
نہ دشمنی اور نہ کسی کا دباؤ۔ ہمیں صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ اللہ کے گھر کی خدمت کے
لیے کون زیادہ اہل، دیانت دار، مخلص، ذمہ دار اور خدمت گزار ہے۔
اللہ تعالیٰ کروشی کی جامع مسجد کے نئے ممبران اور متولی
کو اخلاص، تقویٰ، عدل و انصاف اور صحیح فیصلوں کی توفیق عطا فرمائے، مسجد کو دین، تعلیم،
اصلاح، اتحاد اور خدمتِ خلق کا مضبوط مرکز بنائے اور تمام اہلِ بستی کو باہمی محبت
و اتفاق کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔

No comments:
Post a Comment