Friday, 28 June 2024

ایک بستی، سولہ پشتیں کروشی

 

 

ایک بستی، سولہ پشتیں

کروشی

 


آفتاب عالم ؔ دستگیر پٹیل ( شاہ نوری)

کروشی ، بلگام ،کرناٹک (انڈیا)

 8105493349

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ترجمہ : اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ

اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں کسی مرد صالح کا درجہ ایک دم بلند کر دیا جاتا ہے تو وہ جنتی بندہ پوچھتا ہے کہ اے پروردگار ! میرے درجہ اور مرتبہ میں یہ ترقی کس وجہ سے اور کہاں سے ہوئی ؟ جواب ملتا ہے کہ تیرے واسطے تیری فلاں اولاد کے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے ۔ مسند احمد 

 تاریخ ایک ایسا مضمون ہے جس کہ ذریعہ انسان  ماضی کے آئینے میں جھانک کر حال کو سنوار سکتا ہے ۔مجھے بچپن ہی سے تاریخ سے دلچسپی رہی ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی ،کہ گھر کے بڑے بزرگوں سے اپنے آبا و اجداد کے قصے سننا ، ان کے طور طریقے ،ان کا انداز ِ زندگی ، ان کا رہن سہن ،موسم ، کھیت کھلیان ، تہذیب و تمدن، اِن ساری چیزوں  کی وجہ سے  میرا ذہن تاریخ سے دلچسپی لینے لگا ، جب اسکول جانے لگے تو اساتذہ نے مسلمان حکمرانوں کی تاریخ کا وہ نقشہ ہمارے سامنے پیش کیا جس  کے نقش اب تک دل و دماغ پر چھائے ہوئے ہیں اور انہیں ایام میں ہر سال ایک شخص آیا کرتا تھا  جو اب  بھی آتا  ہے جسے کنڑا زبان میں "ہیڑوا" اور اردو میں میراثی کہتے ہیں، جو اپنی  بڑی ڈائیری میں  گھر  کے نئے پیدا شدا بچوں کے ناموں کا اندراج کرکےہمارے خاندان کا شجرہ نسب پڑھ کرسناتا ہے اور  اس وقت کی موجودہ فصل  یا روپئے پیسے لے کر چلا جاتا ہے۔اس کا  پچھلا سفر 2022کو ہوا تھا جس میں اس نے گھر میں نئے پیدا شدہ بچوں کے ناموں کا اندارج کرلیا تھا  اس شخص کی وجہ سے اور بھی  زیادہ ہمارے بزرگوں کی تاریخ جاننے کا شوق پیدا ہوا ، جب میں نے کالج میں داخلہ لیا تو وہاں عالمی تاریخ پڑھنے کا موقع ملا  اور بیجاپور کے  دو سالہ قیام اور وہاں سے واپسی کے بعد، حال ایسا ہوا کہ ہر پرانی چیز جس  پر قدامت کے آثار ظاہر ہوتے تھے چاہے وہ کسی کتاب  کا ایک بوسیدہ صفحہ ہی نہ کیوں ہو اسے سنبھال کر رکھنے کی عادت پڑھ گئی،جو آج تک قائم ہےجب اس "ہیڑوے" کا پچھلا سفر ہوا تھا اس وقت میں نےاپنے آباواجداد کے نام تحریر کروا لئے تھے جسے میں نے  مندرجہ ذیل تحریر کر دئے ہیں  ۔

ہیڑوے کا تیار کردہ کروشی پٹیل برادری شجرۂ نسب


 

دل میں ایک خواہش ہورہی تھی کے کرویش کی ایک مستند تاریخ تلاش کرکے لکھی جائے  اچانک مجھے پتا چلا کے بلگام کے مصنف ع ۔صمد خانہ پوری صاحب نے  اور مولانا حبیب اللہ عنایت بیگ جامعی غفرلہ نے اپنی کتاب " بلگام۔ تاریخ کے آئینے میں(تحقیق) "  اور ہ تذکرۂ علماء و مشائخ ِ کرناٹک کے عنوان سے  مستند حوالوں کے ساتھ  کتابیں لکھی ہے ، جس میں کروشی کا مفصل ذکر کیا گیا ہے انہوں نے میرے اس کام کو آسان بناد یا ،اب اسی کتاب سے کروشی کی تاریخ آپ قاریئن کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔

 

کروشی (کرویش) 

چکوڑی سے 7 کلو میٹر کے فاصلہ پر موجود یہ گاؤں یہاں پر موجود حضرت راجی نور شاہ رحمتہ اللہ علیہ عرف شاہ نور بابا ؒ کی ذات اقدس اور گٹی بسونا مندر کی وجہ سے عام و خاص کا مرکوز نظر رہا ہے۔درگاہ حضرت راجی نور شاہ رحمتہ اللہ علیہ عرف شاہ نور بابا ؒ کے تعلق سے لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہاں ہر آسیب زدہ انسان بابا کی کرامت کی وجہ سے تندرست ہو جاتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر مذہب و زبان و نسل سے تعلق رکھنے والوں کا ہمیشہ ایک اژدہام رہا کرتا ہے۔کروشی کو چکوڑی کی ایک بڑی اور اہم بستی ہونے کا فخر حاصل ہے۔اس مقام کو ایک اہم تعلیمی مرکز ہونے کا بھی شرف رہا ہے۔اس گاؤں  کا جغرافیائی رقبہ 2407.6 ہیکٹر ہے۔تازہ ترین مردم شماری کے مطابق یہاں کی آبادی 8،481 بتائی جاتی ہے۔ایک سروے کے مطابق یہاں پر کم و بیش 1،919 مکانات ہیں۔یہ علاقہ اپنی  زراعت اور کاشتکاری کے لئے مانا جاتا ہے۔

حضرت راجی نور عرف شاہ نور باباؒ درگاہ



کروشی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس سر زمین کو دارالاولیا ء و بیت الفقراء ہونے کا شرف حاصل ہے۔اس سر زمین پر حضرت راجی نور عرف شاہ نور باباؒ  ببانگ دہل اعلان کررہا ہے کہ " یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جو تعلق اور عہد کرلیتے ہیں ، اس کو پورا کرتے ہیں اور اپنے اقرار کو نہیں توڑتے ۔"(۱۳ رعد ۳ ع )۔

 

آپ صاحب کشف و کرامات تھے

اُس وقت بیجاپور علوم و فنون کا مرکز مانا جاتا تھا جہاں بڑے برے صاحب کشف و کرامات بزرگان موجود تھے۔ آپ کی ذاتِ اقدس بھی کشف کرامات تھی اور ہمہ وقت اپنی خانقاہ میں ریاضت اور مجاہدات میں مشغول رہنے لگے۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ اندھیرے میں روشنی کا وجود بہت جلد پہچانا جاتا ہے، آپ کی آمد اور قیام کی خبر دور دور تک جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی ، بادشاہ وقت یوسف عادل شاہ تک بھی یہ خبر پہنچ گئی جو اس وقت تخت نشین تھا۔ آپ کی خانقاہ میں دور دور سے لوگ پہنچ کر فیوض سے مستفیض ہونے لگے۔ یوسف عادل شاہ بھی آپ کے حلقہ ارادت کا طلب گار ہوا اور ہر ماہ کم سے کم دو ایک بار آپ کی خدمت میں پہنچنے لگا۔

کرویش گاؤں کی فتح 

روایت ہے کہ یوسف عادل شاہ کو آپ سے گہری نسبت تھی ایک دن جب بادشاہ آپ کے پاس تھا ، خبر ملی کے کہ کرویش گاؤں فتح ہوگیا ہے۔بادشاہ نے اس کو حضرت شاہ نور بابا کی دعاؤں کا نتیجہ سمجھ کر آپ کی خدمت میں عرض کیا کہ یہ گاؤں محض آپ کی دعاؤں کی وجہ سے فتح ہوا ہے اس لئے یہ گاؤں آپ کو مبارک ہو۔عادل شاہ نے فرمان شاہی جاری کرتے ہوئے کروشی کی جاگیر آپ کے نام معنون انعام کردی اور اس کی پیشگی کا فرمان جاری فرمایا اور پورے عزت و احترام کے ساتھ کرویش روانہ کردیا کہ اس گھٹاٹوپ اندھیر میں اسلام کی شمع روشن ہو سکے

حضرت محمد میراں  رحمۃ اللہ علیہ

کہا جاتا ہے کہ اپنے کئی سال تک کرویش کے پٹیل کی حیثیت سے اس گاؤں کا نظم و نسق سنبھالا لیکن آپ کی شخصیت ایک مجرد سیاح کی تھی جو خانگی امور کی جکڑ بندیوں سے مبرا رہا کرتا ہے،دنیاداری آپ کا شیوا نہ تھا لیکن بادشاہ وقت کی دی گئی انعامی زمین سے دستبردار ہونا بھی ناگوار تھا۔اس لئے آپ نے پوری جاگیر اپنی بہن کے بیٹے حضرت محمد میراں رحمۃ اللہ علیہ کے سپرد کردی اس طرح آج پانچ سو سال کا عرصہ ہوا کہ اس گاؤں کی پاٹیلگی اور زمینداری حضرت محمد میراں رحمۃ اللہ علیہ کے اولاد در اولاد میں جاری و ساری ہے ۔اور اس خاندان کے لوگ آج بھی بلا تفریق مذہب و ملت عوامی خدمات کا کام کر رہےہیں۔ان کی اولاد میں آج حضرت صوفی نثار احمد اخترؔ پٹیل (قادری چشتی جنیدی )اس کتاب کی تالیف کےوقت حیات ہیں اور انہیں کی سعی مسلسل کی وجہ سے حضرت  راجےنور عرف شاہ نور رحمۃ اللہ علیہ کے حالات سے آگاہی ہوئی ہے  


عادل شاہی فرمان

 


کرویش کی حوالگی اور زمین داری کے تعلق سے سلطان عادل شاہ کی طرف سے جاری کردہ شاہی فرمان آج بھی کرویش کے پٹیل خاندان کی تحویل میں بابا رحمۃ اللہ علیہ کی ایک مقدس امانت کے طور پر نسل درنسل محفوظ ہے ،یہ وہ فرمان ہے جس پر عادل شاہ کی مہر ثبت ہے۔ اس میں درج ہے کہ حضرت راجی نور شاہ درویش کو بادشاہ کی فرمائش پر کرویش کی زمین عطا کر دی گئی ہے اور اس خاندان کو کلی اختیارات دیئے گئے ہیں کہ سال در سال اس زمین کا محصول حاصل کرتے رہیں۔ اسی خانوادے سے حضرت صوفی نثار احمد اخترؔ پٹیل (قادری چشتی جنیدی ) ہیں

 

حضرت شاہ نور بابا رحمتہ اللہ علیہ کا آستانہ:

 

کرویش میں حضرت شاہ نور بابا رحمۃ اللہ علیہ کا آستانہ آج بھی مرجع خلائق ہے جہاں پر آج بھی ہزاروں عقیدت مند اور ارادت مند لوگوں کا ایک جم غفیر اور ہجوم ہوا کرتا ہے آپ جس مقام پر آسودہ خاک ہیں اس مزار مقدس پر ایک بہت ہی خوبصورت گنبد تعمیر کیا گیا ہے  ہر سال گھڑی پاڑوا کے کچھ عرصہ بعد آپ کا عرس بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بلاتفریق مذہب وملت شریک ہوتے ہیں۔

بلگام۔ تاریخ کے آئینے میں(تحقیق) " ص نمبر 150 

 

عارف کامل ذبدۃ الواصلین وقدوۃالسالکین عارف باللہ حضرت راجی نور شاہ عرف شاہ نور بابا قدس سرہ کے مختصرا احوال زندگی

ریاست کرناٹک، ہندوستان کے دیگر علاقوں کی طرح علمی و روحانی فیوض کا ماویٰ و معدن رہا ہے ۔ یہاں کی سرزمین پر بے شمار اساطین علم و فن اور اصحاب طریقت و حقیقت ارباب صدق و صفا اور جامع شریعت و طریقت اولیائے کرام پیدا ہوئے اور مختلف ملکوں سے یہاں آ کر بود و باش اختیار فرمائی اور یہاں بسے اور رہے اور یہاں کی سرزمین کو اپنے علم و فن سے مامور اور اپنے صدق و صفا سے منور کرتے رہے ۔ انہی اولیاء کرام میں کرویش کے عارف باللہ حضرت راجی نور شاہ عرف شاہ نور بابا قدس سرہ بھی ہیں ۔ جن کا مبارک تذکرہ کتاب تذکرہ علماء و مشائخِ کرناٹک مصنف حضرت مولانا حبیب اللہ عنایت بیگ حفظ اللہ ساکن اتھنی میں مذکور ہے ۔ یہ کتاب کرناٹک کے علمی و روحانی ادبی و شعری سیاسی و ملی احوال پر ایک نہایت جامع دستاویز کی حیثیت رکھنے والی پونے چھ سو صفحات پر مشتمل کتاب ہے ۔ جس میں صدیوں پہلے کے تقریبا 175 جید علماء و اولیائے کرام کے مبارک تذکروں کے ساتھ 186 شہروں میں مدفون خاصانِ حق وہ مقبولان الہی کے احوال مذکور ہیں جس کے صفحہ نمبر 510 پر حضرت موصوف رحمۃ اللہ علیہ کی سوانح عمری مستور ہے یہ احوال وہیں سے ماخوذ ہیں ۔ ۔ ۔

کتاب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کریں :

مولانا حبیب عنایت اللہ بیگ  9945508352








منقبت

حضرت راجی نور شاہ رحمتہ اللہ علیہ

کروشی ضلع بلگام ،کرناٹک

ہمارے حضرتِ راجی کی اونچی شان ہے لوگو

انہی کے نام سے بستی کی اک پہچان ہے لوگو

ہٹا کر کفر کی چادر کو اس بستی کے ذروں سے

عطا کی ثروتِ ایماں بڑا احسان ہے لوگو

محمد میراں تھے ہمشیر زادہ میرے حضرت کے

مرے اجداد کو حاصل بڑا یہ مان ہے لوگو

عقیدت سے محبت سے نظر والے یہ کہتے ہیں

کہ ان کا آستانہ تو ہماری شان ہے لوگو

قیامت تک رہے جاری جہاں میں فیض حضرت کا

یہی میری تمنا ہے یہی ارمان ہے لوگو

کہاں جاؤں میں ان کی قربتوں کو چھوڑ کر عالمؔ

نکلنا جسم سے کیا روح کا آسان ہے لوگو

آفتاب عالمؔ شاہ نوری

  Manqbat Hazrat Raji Noor Sha Urf ShahNoor baba R.A Karoshi...Aftabalam Shahnoori awaz Zaki Qazi

تربیت سے تیری مَیں انجم کا ہم قسمت ہُوا
گھر مِرے اجداد کا سرمایۂ عزّت ہُوا

علامہ اقبالؒ 

اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطری طور پر ایک محقق بنا کر پیدا کیا ہے، انسان ہر اس چیز کی تحقیق کرنا چاہتا ہے جو اس کے علم میں نہیں ہے، بعض کے سوالوں کے جوابات  تو آسانی  سے مل جاتے ہیں بعض کے جوابات نہیں مل پاتے ،اسی قسم کے تین بنیادی سوالات ہیں جس کے متعلق ہر انسان سوچتا  رہتا ہے۔۔۔۔ کہ"میں کون ہوں؟ "ہم کون ہیں ؟" ،"ہمارے کون ہیں"؟ میں کون ہوں یا ہم کون ہیں اس کا جواب عام طور پر گھر کے افراد کے واسطے سے مل جاتا ہے، تیسرا  سوال ہمارے کون ہیں اور کہاں ہیں  یعنی خونی رشتے دار ،اس کا جواب کم ہی افراد جانتے ہیں ، اللہ جزائے خیر دے  مرحوم نثار احمد پٹیل  چچا کے خاندان کے سارے افراد کو  جنہوں نے کروشی کی پٹیل برادری کا نسب نامہ سنبھال رکھا تھا ، میں احسان مند ہوں محمد صدیق پٹیل چچا، محبوب پاشا چچا ، توصیف بھائی،شاہد بھائی،اسد الزماں بھائی کا جنہوں نے 13 جنریشن تک کا مکمل نسب نامہ مجھے دیا ،  اگلی دو  تین جنریشن کے ناموں کو میں نے اللہ کا نام لے کر شروع کیا  تو میں حیران رہ  گیا کہ ہماری برادری سے تعلق رکھنے والے افراد ملک اور بیرون ملک میں کئی جگہ   بسے ہیں جن جن لوگوں سے بات کرتا  ان میں سے کئی افراد تو میرے اتنے قریبی رشتے دار  نکلے جس کا مجھے علم ہی نہیں تھا   الحمد للہ تقریباً  مسلسل 22 دن کے بعد یہ کام مکمل ہوا جب اسے چارٹ پر لکھنے لئے بیٹھا تو اس نسب نامے کا  ایک کارڈ شیٹ میں سمانا  نا ممکن تھا شروع سے کروشی کی پٹیل برادری   6 گڈّوں میں تقسیم ہے اس لئے میں نے اپنی آسانی کے لئے  ہر گڈّے کے ناموں کو الگ الگ صفحے میں تحریر کر دیا ۔جس سے کسی حد تک یہ کا آسان ہوگیا،

 

کروشی کے پٹیلوں کی نذر

جہاں والوں نے اپنوں سے عداوت کی سیاست کی

کروشی کے پٹیلوں نے یہاں ہر دم محبت کی

ہمارے نوجوانوں کے بڑے پرنور چہرے ہیں

کہوں تعریف میں کیا کیا میں ان کے جاہ و حشمت کی

رگوں میں خون بہتا ہے جواں مردوں جسوروں کا

مثالیں دے رہی دنیا پٹیلوں کی شجاعت کی

خدا کے دین کی تبلیغ کا مقصد لیے دل میں

کروشی کی زمیں تک میرے آبا نے ہی ہجرت کی

اسے خوبی کہو گاؤں کی یا تحفہ کہو رب کا

بڑی ہے دھوم دنیا میں کروشی کی ضیافت کی

ہمیں ہے فخر عالمؔ حضرتِ راجی کی نسبت پر

پٹیلوں پر نوازش ہے انہی کے نیک نسبت کی

آفتاب عالمؔ شاہ نوری

 

کروشی کے پٹیل خاندان کا شجرہ نسب


 

 

(1)مکتوم پٹیل کی اولاد محمد پٹیل گڈّا کہلاتی ہے


 

(2)سراج  پٹیل کی اولادبالا پٹیل گڈّا کہلاتی ہے


 

(3)قادرپٹیل کی اولادلاڈو  پٹیل گڈّا کہلاتی ہے


 

(4)امام پٹیل کی اولاد مکتوم پٹیل گڈّا کہلاتی ہے

 


(5)درویش پٹیل کی اولاد میراں  پٹیل گڈّا کہلاتی ہے


 

(6)باپو عرف بالا  پٹیل کی اولادگھوڑو  پٹیل گڈّا کہلاتی ہے

 

 


ہر گڈّے کے افراد کا مختصر تعارف

 

1۔ محمد پٹیل گڈّا

آبادی کے اعتبار سےیہ  گڈّا اول نمبر پر ہے،اس گڈّے کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس گڈّے کے افراد کو بہادری شجاعت اور کسی کام کو آگے  بڑ چڑھ کر کرنے کی نعمت سے نوازہ ہے ،  اس گڈّے اکثر و بیشتر افراد دنیاوی اعتبار سے بڑے بڑے عہدوں پر کام کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں۔

2۔ بالا پٹیل گڈّا

اس گڈّے کی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیک وقت اس گڈّے میں ایسے افراد پیدا کئے ہیں جو دینوی اور دنیوی  زندگی میں اپنا نام روشن کیا ،

3۔ لاڈو گڈّا

اس گڈّے کے اکثر و بیشتر افراد کو اللہ تعالیٰ سیاسی سمجھ بوجھ عطا کی ہے۔

6،5،4 : مکتوم پٹیل گڈّا،میراں  پٹیل گڈّا، گھوڑو  پٹیل گڈّا

اس  گڈّے کے اکثر و بیشتر افراد خاموش طبیعت ہیں اس کے علاوہ دین دنیا میں اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔۔

 

کروشی پٹیل برادری سے تعلق رکھنے والے گاؤں اور شہر :

مندرجہ ذیل میں شہروں اور گاؤں کا ذکر ہے جہاں سالوں سے ان کے درمیان

رشتہ داریاں رہی ہیں،

 

شیڑشال،بستواڑ،الاس، اورواڑ، میرج،وڈی،  بلگام،کڑےگاؤں،فقیرباڑا،رکڑی، شیرولی، کتیانی، ہیرےکوڑی،الہ اباد،ہلدی،بیلےواڑی،جنیاڑ،ارجن باڑہ، تمنک باڑا،کاساری،باروا،روزے باغنی،دیندےواڑی،ہکیری،مسرگوپا،مغل بستواڑ،گوڑاڑ،اکتن ناڑ،کندرگی،پاچاپور،انکلا،ماونور،گوڑچنملکی،چمپا ہسور،بساپور، کڑچی،

اس کے علاوہ پچاسوں ایسے گاؤں شہر ہیں جہاں پر کروشی کی پٹیل برادی روزگار کے سلسے میں برسوں سے مقیم ہے جن میں کولھاپور، ستارا،پونا،بمبئی،بیجاپور،گلبرگہ،بنگلور، مہاراشڑرا  کرناٹک کے کئی اضلاع اور عرب ممالک، امریکہ (مچیگن) لندن، ملیشیا وغیرہ وغیرہ۔۔۔

 

نسب  نامہ بھیجنے کا مقصد:  اس نسب نامے کو ترتیب دے کر بھیجنے کا یہی مقصد ہے کہ آپسی تعلقات مضبوط ہوں جو گاؤں سے دور ہیں وہ کم از کم سال میں ایک دو بار آکر ملاقات کریں   اور آپس میں اتحاد و اتفاق کے ساتھ مل جھل کر رہیں۔۔۔

 

عادل شاہی دور کا پٹیل برادری قبرستان








اس قبرستان کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں تقریبا 500 سال سے بھی زائد مدت کی پانچ پرانی قبریں ہیں جو دراصل پٹیل برادری کے اجداد کہ ہیں،اس قبرستان کو چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے،جس میں اپنے اپنے گڈے کے اعتبار سے تدفین ہوتی ہے، ایک صاحبِ کشف بزرگ جب اس پرانے قبرستان میں آ کر تھوڑی دیر مراقبہ کرنے کے بعد فرمایا کہ بھائی یہاں تو بڑی پاک روحیں دفن ہیں۔

 

ڈیجیٹل نسب نامہ


چونکہ موجودہ زمانہ ٹیکنولوجی کا زمانہ ہے ، اور زمانے کے ساتھ ساتھ چلنا ضروری ہے، اس خاکسار آفتاب عالم شاہ نوری نے اپنے بہنوی وسیم سید عظیم پاشا  انعامدار (باشیبان انعامدار بلگام) جو کے ایک انجئیر ہیں ان کی مدد سے یہ نسب نامہ ڈیجیٹل کروا لیا ۔اس کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کروشی پٹیل برادری سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فرد کا نام لکھا جائے تو اس  فردکی اوپر کے 16 اجداد کے نام آجائیں گے۔اس کا لنک بھی شئیر کر رہا ہوں۔۔

Sunday, 16 June 2024

مشترکہ غزلیات کی جانب ایک انقلابی قدم ( عزیزؔ بلگامی)

مشترکہ غزلیات کی جانب ایک انقلابی قدم

 


اللہ نے انسان کی طبیعت کو فطرتاً تازگی پسند بنایا ہے،اور تبدیلی انسانی زندگی کا خاصہ رہا ہے، چاہے وہ روز مرہ کے معاملات ہوں یا ادب سے جڑا ہوا  کوئی مسئلہ ہی کیوں نہ ہو۔۔ جہاں تک ادب میں نظم کی بات کی جائے تو وقتا فوقتا اس میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔۔ بعض لوگ ان تبدیلیوں کو پسند کرتے ہوئے اس میں اپنا کلام بھی کہتے رہے ہیں اور بعض لوگ ایسے بھی رہے ہیں جنہوں نے فقط تنقید بلکہ تنقیص کو اپنا شیوہ بنایا اور نتیجتاً ادب کو اس قبیل کے لوگوں  نے کچھ نہیں دیا۔۔

اس صورتحال کے درمیان عالمِ اردو ادب و سخنوری کی نامور شخصیت محترم جناب عزیز بلگامی صاحب نے ایک منفرد قدم اٹھایا جو "مشترکہ غزل" کی نئی صنف کی تخلیق سے تعلق رکھتی ہے۔۔یعنی کسی شاعر کی غزل کے مصرع اولیٰ یا مصرع ثانی پر اپنے مصرع کی گرہ لگا کر غزل کو مکمل کرنا۔۔ محترم عزیز بلگامی صاحب نے اس صنف کا آغاز 2010ء میں کیا اور اس صنفِ نٙو کے موجد بن گئے۔۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہنسور یوپی حئنساوار ءُ کے ریسرچ اسکالر ڈاکٹر آفتاب عرشی صاحب نے  جناب عزیز بلگامی کی مشترکہ غزل کے حوالے سے ایک مضمون اپنے تحقیقی مقالے میں شامل کرتے ہوئے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور یوں انہوں نے عزیز بلگامی کی اس صنف سخن "مشترکہ غزل" کی ایجاد پر مہرِ تصدیق ثبت کردی اور "فکروفن شعر سخن" کے ادبی چینل پر اپنی انٹرویو میں اس تصدیق کا اعادہ بھی کیا۔۔ یہ انٹرویو یو ٹیوب پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔۔

بہر کیف، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا دیگر شعراء بھی اس مشترکہ غزل میں طبع آزمائی کرنے لگے اور اس سلسلے کو پسند کرنے لگے، جن میں جدہ کے بزرگ شاعر  محترم وحید القادری عارف بھی شامل ہیں اور حال ہی میں "مشترکہ غزل"پر ایک مضمون بھی منظرِ عام پر آیا ہے۔۔ اس دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ایک نئے کام کا آغاز کیا جا رہا ہے اور وہ یہ کہ محترم جناب عزیز بلگامی صاحب کے مجموعہ کلام "دل کے دامن پر" کی اُن کی غزلیات پر مشترکہ غزل کہنے کے لئے دنیا بھر کے شعراء کو دعوتِ سخن دی جا رہی ہے تاکہ وہ ان غزلیات کے مصرعوں پر طبع آزمائی کریں اور اپنی مشترکہ غزل پیش کریں۔۔اس کی ترتیب کچھ اس طرح ہوگی کہ ایک واٹس ایپ کا نیا گروپ بنایا جائے گا، جس کا لنک آپ احباب کو دیا جائے گا۔۔ روزانہ ایک غزل پوسٹ کی جائے گی اور 24 گھنٹے کا وقت دیا جائے گا ان 24 گھنٹوں میں آپ اپنی "مشترکہ غزل" مکمل کر کے اسی گروپ میں پوسٹ کردیں۔۔ کسی ایک کی غزل کو صاحب کتاب اپنے نئے مجموعۂ کلام کے لیے منتخب کرلیں گے ۔ ۔ یہ سلسلہ آخری غزل تک چلتا رہے گا اور اس طرح مشترکہ غزلیات پر مشتمل یہ اہم اور تاریخی کتاب مکمل ہو جائے گی ۔ ۔ محترم عزیز بلگامی صاحب کے مجمموعہ کلام "دل کے دامن پر " میں ایک حمد، ایک نعت کے علاوہ 68 غزلیات ہیں۔۔یعنی کل 70 کی تعداد بنتی ہے۔۔ اس طرح یہ کام دو ڈھائی مہینے کے عرصے میں مکمل ہو جائے گا۔۔اور ان شاءاللہ بہت جلد اسے کتابی شکل دی جائے گی۔۔ میری آپ تمام ہی معزز شعراء سے گزارش ہے کہ "مشترکہ غزل" والے گروپ میں شامل ہو کر خود کو مشترکہ غزل کے بنیاد گزاروں کی فہرست میں اپنا نام درج کرالیں۔۔ یاد رہے کہ تحریر کی عمر بہت لمبی ہوتی ہے، اور آنے والی نسلیں ان "مشترکہ غزلیات" کو پڑھ کر بھرپور استفادہ کرسکتی ہیں اور ان شاء اللہ محترم عزیز بلگامی جیسے شاعر کے نام کے ساتھ آپ کا نام بھی ادب میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے گا۔۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔۔

 

خاکسار

آفتاب عالمؔ شاہ نوری

 کرناٹک انڈیا


Sunday, 24 December 2023

طالب علموں کی پسند عزیز بلگامی

 

 

طالب علموں کی پسند عزیز بلگامی



 (آفتاب عالمؔ شاہ نوری کروشی بلگام ۹؍دسمبر،۲۰۲۳ء

 درس و تدریس کے میدان میں ہر وقت نت نئی تبدیلیاں رُونماہوتی رہتی ہیں۔ کبھی تعلیمی نصاب کو موقع و محل اور ضرورت کے اعتبار سے بدلا جاتا ہے اور کبھی نیے تعلیمی دِلچسپی کے اُمور کو نصاب میں داخل کیا جاتا ہے جو طلباء کے لیے مفید ہوتی ہیں۔ اس بار حکومت کرناٹک کے تعلیمی شعبے نے پی یو سی جونیئر کالج کے سالانہ سوالوں کے پرچے میں بڑی تبدیلی کر دی ہے۔ جہاں طلباء ہر بار سالانہ امتحان میں سو 100مارکس کا پرچہ لکھا کرتے تھے، اِمسال سے 80 مارکس کا پرچہ لکھیں گے۔ بقیہ 20 مارکس میں سے 10 مارکس پروجیکٹ اسائنمنٹ ورک کے لیے اور 10 مارکس ٹیسٹ اور ششمائی امتحان میں طلباء کے حاصل کردہ نمبرات کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔ 10 مارکس کے پروجیکٹ اسائنمنٹ کے تعلق سے حکومتِ کرناٹک بنگلورو کے تعلیمی شعبے نے بطور نمونہ اردو کے چند سوالات بھیجے تھے، جن میں سے ایک سوال کا انتخاب کر کے بچوں کو اسائنمنٹ لکھنا ہوتا تھا۔ چکوڑی تعلیمی ضلع کے اُردو شعبے کے اِنچارج محترم یوسف خان پٹھان صاحب اور مرارجی دیسائی گرلز کالج چکوڑی کے مہمان اُردو لیکچرارجناب آفتاب عالم دستگیر پٹیل شاہ نوری صاحب نے اس پر بحث کر کے چند سوالات کو اپنے تعلیمی ضلع کے لیے چن لیا۔ جسے جناب آفتاب عالم دستگیر پٹیل شاہ نوری نے اپنے طور پر سوالات کے ساتھ جوابات کو نوٹس کی شکل میں بنایا اور اس کی کا پی ڈی ایف PDF بنا کر چکوڑی اور بلگام تعلیمی ضلع میں عام کر دیا۔ اسے اتفاق کہیں یا طلبہ کی عالمی شہرت یافتہ شاعر عزیز بلگامی سے محبت… اکثر و بیشتر طلباء نے محترم جناب عزیز بلگامی صاحب کے انٹرویو کے سوال کا انتخاب کیا اور انہی پر اسائنمنٹ لکھا۔

محترم عزیز بلگامی صاحب ہماری ریاست ہی نہیں، بلکہ عالمی سطح پر مشہور و معروف شاعر ہیں۔ ان کے بغیر جدید شاعری کا تذکرہ ادھورا ہے ۔ یوں تو پی یو سی کے نصاب میں محترم جناب عزیز بلگامی صاحب کا کلام شامل ہے اس کے علاوہ ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں بھی ان کے کلام کو بطور نصاب پڑھایا جا رہا ہے۔ہمارا گمان تھا کہ صرف چکوڑی اور بلگام کے تعلیمی ضلع کے طلباء و طالبات ہی نے محترم عزیز بلگامی صاحب کا انٹرویو بطور اسائنمنٹ لکھا ہے، مگر تحقیق پر معلوم ہوا کہ کرناٹک کے طلبہ کی ایک کثیر تعداد نے عزیز بلگامی صاحب پر اسائنمنٹ لکھ کر اپنی محبتوں کا ثبوت دیا ہے۔


آفتاب عالمؔ دستگیر پٹیل (شاہ نوری کروشی)

مرار جی دیسائی گرلز کالج مہمان اردو لیکچرار

چکوڑی بلگام کرناٹک

8105493349

واٹس ایپ کے گروپ ایڈمن اور ممبران سے گزارش

 

واٹس ایپ کے گروپ ایڈمن اور ممبران سے گزارش


اللہ تعالیٰ نے انسان کی طبیعت کو تازگی پسند بنایا ہے ۔ اگر آٹھوں پہر ایک ہی طرح کا کام انجام دیا جائے یا ایک ہی طرح کے کام میں خود کو مصروف رکھا جائے تو عین ممکن ہے کہ غیر محسوس طریقے سے ہمارے ذہن پر تناؤ پڑھ سکتا ہے ۔ موجودہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور نے انسان کو چوبیس گھنٹے مصروف بنا رکھا ہے ۔ انسان جانے انجانے میں اتنا وقت ضائع کر رہا ہے نہ جس کا کوئی حساب ہے نہ کوئی اندازہ ۔ کچھ دیر کے لیے سوچ کر دیکھیں کہ ہم کہاں ہیں اور سوشل میڈیا ہمیں کس برق رفتاری کے ساتھ لے جا رہا ہے اگر اسی رفتار سے ہم سماجی میڈیا سے جڑے رہے گے، اور دس برس کے بعد اپنی ذات کا محاسبہ کریں تو بقول شاعر ہمارا حال کچھ یوں ہوگا ۔

' پھرآگئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے ہم '

کیا واٹس ایپ گروپس پر ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔۔؟

میں نے برسوں پہلے ایک واقعہ کسی بزرگ کی کتاب میں پڑھا یا سنا تھا ۔ یہ ایک بوڑھی اماں رات کے اندھیرے میں بجلی کے کھمبے کے نیچے اپنا پیسوں سے بھرا ہوا بٹوا تلاش کر رہی تھی ۔ اُدھر سے ایک نوجوان کا گزر ہوا بوڑھی اماں کو پریشان دیکھ کر نوجوان نے پوچھا اماں کیا ہوا؟ بوڑھی اماں کہنے لگی بیٹا میرا پیسوں سے بھرا ہوا بٹوا کھو گیا ہے ۔ اس بوڑھی اماں کی مدد کی غرض سے بجلی کے کھمبے کے نیچے نوجوان لڑکا تھوڑی دیر ادھر ادھر تلاش کرنے کے بعد کہنے لگا اماں ذرا یاد کرو کہ کھمبے کی کس جانب تمہارا بٹوا گرا تھا ۔ بوڑھی اماں نے کہا بیٹا بٹوا تو گھر میں کھویا ہے ۔ ۔ ۔ ! نوجوان نے کہا تو پھر یہاں کیوں ڈھونڈ رہی ہو ؟ تو بوڑھی اماں کہنے لگی بیٹا کیا کروں گھر میں بہت اندھیرا ہے یہاں بجلی کے کھمبے کے نیچے اجالا ہے اسی لیے یہاں ڈھونڈ رہی ہوں ۔ ۔ ۔ آپ کا کیا خیال ہے اگر ساری زندگی بھی بوڑھی اماں بجلی کے کھمبے کے نیچے بٹوا ڈھونڈے گی تو کیا اسے بٹوا مل سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ؟

بالکل اسی طرح موجودہ دور کا انسان بھی سوشیل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس پر بحث کر کے دنیا جہان کے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اور روز بروز نئے نئے واٹس ایپ کے گروپس گریٹ کر رہا ہے ۔ میری معلومات کے مطابق ایسے چند ہی گروپ ہوں گے جن کا جیسا نام ہوتا ہے ویسا کام ہوتا ہے ان کی تعداد تو خیر آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ ۔ ورنہ اکثریت تو ایسے واٹس ایپ گروپس کی ہے جو بے فضول کی بحث میں اپنے شب و روز گزار رہے ہیں ۔ ۔

بحیثیت واٹس ایپ ایڈمن آپ کیا کر سکتے ہیں ۔ ۔ ؟؟

* کوئی بھی نیا گروپ کریٹ کرنے سے پہلے تھوڑی دیر اس بات کو ضرور سوچیں کیا اس گروپ سے امت کا دینی یا دنیوی فائدہ ہو سکتا ہے ۔ ۔ ؟ اگر فائدہ ہونے کے امکانات ہیں تو مخلص سمجھدار احباب کو تلاش کر کے گروپ میں شامل کرنا شروع کریں ۔

* گروپ کے اغراض و مقاصد اور قوانین کو احباب کے مشورے سے طے کریں ۔

* گروپ کی تعداد کو بڑھانے کی غرض سے دیگر گروپ میں لنک ہرگز نہ شیئر کریں ورنہ گروپ میں ایسے افراد کی شمولیت کا امکان ہے جو گروپ کی فضا کو خراب کریں گے ۔

* سب سے اہم اور ضروری بات جس کے لیے میں نے قلم اٹھایا ہے وہ یہ ہے کہ گروپ ایڈمن اپنے گروپ کے لیے ایک وقت متعین کریں یعنی صبح دس سے رات دس بجے تک ۔ ۔ اور رات دس بجے کے بعد سے اونلی ایڈمن کر دیں ۔ ۔ اگر کوئی ضروری پیغام ہے تو ایڈمن اس کے پیغام کو ریسو کر کے گروپ میں فارورڈ کر دیں ۔ ۔  اگر ایسا نہ کیا گیا تو یاد رکھیں رات دیر تک لوگ واٹس ایپ پر مصروف رہیں گے ہو نہ ہو خدا اس متعلق آپ سے سوال کرے کہ تم تو آرام سے سو گئے اور دیگر لوگوں کو کام پر لگا گئے ۔

* گروپ کے قوانین توڑنے پر ایک دو مرتبہ پرسنل میسج بھیج کر سمجھائیں کیونکہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے جس نے تنہائی میں کسی کو نصیحت کی اس نے نبیوں والا کام کیا سامنے والے کی رہنمائی کی اور جس نے لوگوں کے مجمع میں کسی کو نصیحت کی گویا اس نے فرعون والا کام کیا سامنے والے کو رسوا کیا ۔ ۔ میرا خیال ہے اس طریقے سے فائدہ ضرور ہوگا اگر پھر بھی نہ مانے تو عزت کے ساتھ انہیں گروپ سے رخصت کر دیں ۔ ۔

بحیثیت گروپ ممبر آپ کیا کر سکتے ہیں ۔ ۔ ؟

* کسی بھی گروپ میں شمولیت سے پہلے اس حدیث کو ضرور ذہن میں رکھیں " من کثر سواد قوم فھو منھم ۔۔جو کسی جماعت کی تعداد بڑھا دے اس کا شمار انہی میں ہوگا " اس حدیث کے ٹکڑے کو ذہن میں رکھنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ انسان ایسے ویسے گروپ سے اپنے آپ کو دور رکھے گا ۔

* گروپ جوائن کرنے سے پہلے گروپ ممبران پر ایک نظر ڈالیں دو چار دن تک گروپ میں رہ کر دیکھیں پڑھے لکھے مہذب سمجھدار لوگ ہیں تو گروپ میں رہیں ورنہ لیفٹ ہو جائے ۔

* خواتین محتاط رہیں ۔

* بار بار قوانین توڑے جا رہے ہوں تو فورا لیفٹ ہو جائے ۔ کیونکہ قیامت کی صبح تک بھی ایسے لوگ نہیں سدھریں گے ۔ ہر روز ایک نیا ممبر گروپ کے قوانین کو توڑتا ہوا نظر آئے گا ۔ ۔

* کسی ایسی چیز کو بحث کا موضوع نہ بنائیں جس سے نہ دین کا فائدہ ہو نہ دنیا کا ۔

یہ چند موٹی موٹی باتیں اور گزارشات تھیں میری امید ہے احباب اس کو سنجیدگی کے ساتھ پڑھیں گے اور دعاؤں سے نوازیں گے ۔ ۔

 

احقر :

آفتاب عالم ؔدستگیر پٹیل (شاہ نوری)

 کروشی بلگام کرناٹک

8105493349

Sunday, 2 July 2023

مخلص استاد ،حساس شاعر ڈاکٹر یاسین راہیؔ تراسگر

 مخلص استاد  ،حساس شاعر

ڈاکٹر یاسین راہیؔ تراسگر


 

ہر ابتدا سے پہلے ہر انتہا کے بعد

ذاتِ نبی ﷺ بلند ہے ذات ِخدا کے بعد

دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ

میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفٰیﷺ کے بعد

 

دنیا کی اس مختصر سی زندگی میں مجھے بہت سارے اساتذہ اور شعرا ء سے ملنے کا اتفاق ہوا ۔ مگر جتنا میں ڈاکٹر یاسین راہی ؔصاحب سے متاثر ہوا ہوں ،شاید ہی اتنا کسی سے متاثر ہو سکا،اس کی ایک اہم اور بنیادی وجہ ان کی منکسر المزاجی اور اخلاص ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو انسان ڈاکٹر صاحب سے ایک بار مل لے وہ بار بار ملنے کی تمنا کرے گا، کیونکہ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت میں  ایسی جاذبیت ہے جو انسان کو نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے قریب کرتی ہے ۔ اور ان میں وہ تمام خصوصیات اور قابیلتیں موجود ہیں جو اعلیٰ انسانوں اور شخصیات میں پائی جاتی ہیں ۔ یوں تو ہر انسان کو اپنے متعلق کسی نہ کسی چیز کے پانے یا کھونے کا افسوس ہوتا  ہی ہے ۔ مجھے جس چیز کا افسوس ہے وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے میری ملاقات پہلے کیوں نہیں ہوئی ۔ ۔ ؟

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے

تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

ائے کاش ڈاکٹر صاحب سے میری ملاقات طالب ِعلمی کے زمانے میں ہوئی ہوتی تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے ذریعے مجھےبہت سارا علمی فیض  مل جاتا ۔ خیر یہ تو مقدر کی بات تھی مگر ان کے ذریعے مجھے جتنافیض  ملا ہے وہ بھی کم نہیں ہے ۔ کیونکہ ان جیسی پاک ہستیوں کا زندگی میں آنا ہی  بہت بڑی سعادت ہے ۔ اس بات پر میں جتنا الله کا شکر ادا کروں وہ کم ہے ۔

جہاں تک درس و تدریس کا معاملہ ہے میں سمجھتا ہوں ہمارے پورے علاقے میں ان جیسے مخلص اساتذہ  کم ہی ملیں گے  ۔ ڈاکٹر صاحب کو اپنے پیشے سے والہانہ محبت ہے ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ برسوں گزر جاتے تھے مگر ڈاکٹر صاحب چھٹی نہیں لیتے ۔اپنے مضمون پر گہرا علم رکھتے ہیں،بات کو اس طرح سمجھاتے ہیں کہ غبی سے غبی ذہن کا بچہ آسانی سے سمجھ لے۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مجھے کئی مرتبہ سفر کرنے کا بھی موقع ملا اور جہاں جہاںہمارا  جانا ہوا وہاں وہاں ان کے شاگردوں کا ایک بڑا ہجوم ملا ۔ اور ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ان کے قابل اور با صلاحیت  شاگردوں کا خلوص اور پیار دیکھ کر ذہن میں یہ شعر گونج اٹھتا تھا ۔

ہر آں کارے کہ بے استاد باشد

یقین دانی کہ بے بنیاد باشد

ترجمہ : ہر وہ بندہ جو بے استاد ہوتا ہے یقین مانو کہ وہ بے بنیاد ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ان کے شاگردوں کا  جو ادب و احترام  معاملہ ہے اس طرح کا ادب و احترام آج کے زمانے میں بہت کم نظر آتا ہے،ویسے تو ڈاکٹر صاحب کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ ان میں سے کئی ایک سے ملنے کا موقع بھی ملا ۔ مگر ڈاکٹر صاحب کے دو شاگرد ایسے ہیں جن سے بار بار فون پر بات چیت بھی ہوتی رہی اور کئی مرتبہ ملنے کا موقع بھی ملا ۔ ان میں سے  ایک ہیں ارشاد احمد سوداگر صاحب مالک ہوٹل نیاز بلگام ۔ اور دوسرے ہیں شفیق صاحب مالک ہوٹل گرین تاج بلگام ۔ جب جب ان دونوں صاحبان سے بات چیت یا ملاقات ہوئی ہے میرا جہاں تک خیال ہے صرف علمی بات چیت ہی ہوئی ہے ۔ میں اکثر سوچا کرتا تھا ایسی علمی صلاحیت، اردو سے ایسی محبت ،سخن فہمی  اور مطالعہ کا ایسا نکھرا ذوق ایسے مصروف اشخاص میں کیسے آیا ۔ ۔ ؟ میرے دل میں صرف ایک ہی جواب آتا رہا وہ ہیں ڈاکٹر یاسین راہیؔ تراسگر صاحب کی شاگردگی کی برکتیں ۔ ۔

دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر

آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر

ڈاکٹر صاحب کے دو شعری مجموعے " قطرہ قطرہ دریا  دیکھوں " اور گلاب لہجہ " منظر  عام پہ آچکے  ہیں  ۔ ڈاکٹر صاحب اس برق رفتاری کی ساتھ غزلیں کہتے ہیں کی عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ مشکل سے مشکل موضوعات کو آسانی سے پیش کرتے ہیں گویا الفاظ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں اور وہ جس طرح  چاہتے ہیں چُن لیتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے ۔ مگر ان کی سہل ممتنع میں کہی گئی غزلوں کا جواب نہیں ۔ میں اکثر ان سے کہتا بھی رہتا ہوں کہ آپ اس دور کے ناصر کاظمی ہیں ۔ ۔ ڈاکٹر صاحب کی سینکڑوں سہل ممتنع  میں کہی گئی غزلیں ہیں جنہیں آئیندہ آنے والے ایام میں کتابی شکل دینا باقی ہے ۔شہرت اور صلے سےدور  اردو  زبان و ادب کی خاموشی سے  خدمت کرنے والے دورِ حاضر میں بہت کم ملیں گے، جہاں تک ڈاکٹر صاحب کی مشاعر وں میں شرکت کی بات ہے ان کا پڑھنے کا انداز سیدھا سادھا اور  دل کو چھو لینے والا ہوتا ہے، ان کی ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ دوسرے شرکاء کو  بھی مشاعرہ پڑھنے کا موقع ملے،  بار بار ایک ہی کلام سنانے سے گریز کرتے ہیں ہر بار نئی غزلیں سامعین کو سننے کا موقع ملتا ہے، ڈاکٹر صاحب کو بناوٹ سے چِڑھ ہے، خاص طور پر آج کل کے شعرا ءجس انداز  سےداد بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں یہ انہیں سخت نا پسند ہے اس طرح کرنے والوں کے لئے یہ کہتے تھے کہ یہ مشاعرہ نہیں پڑھ رہے  بلکہ اداکاری کر رہے ہیں ۔

کچھ باتیں مصنف کے بارے میں : مفتی نوشاد زاہد صاحب جید عالمِ دین ،شاعر،مصنف اور ایک بہترین شخصیت کے مالک ہیں، مدرسہ بالیکندری میں بحیثیتِ صدر مدرس اپنی دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ طبیعت میں سادگی ، بڑوں کا احترام ، چھوٹوں پر شفقت ، شعلہ بیاں مقرر ،  شاعری سے لگاؤ ، بالخصوص نعتیہ شعر رقم کرنا ، ان کی اہم خصوصیات ہیں  ۔مفتی صاحب کو میں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے ایسی معتبر شخصیت کی حیات و خدمات پر قلم اٹھایا ہے جسے آنے والی نسلیں ان کے کلام اور زندگی کو  بڑے ذوق و  شوق سے پڑھیں گی۔

پنشن ہوگئی ہے کیا بات ہے اپنی

اب دن بھی ہے اپنا اور رات بھی اپنی

اب اور ہی کچھ ہے مرے دن رات کا عالم

ہر وقت ہی رہتا ہے ملاقات کا عالم

میرا خیال ہے اس کتاب کی رسم اجرا تک ڈاکٹر صاحب  بلگام کے معروف ادارے اسلامیہ ہائی  اسکول و کمپوزٹ پی یو کالج سے بحسن ِ خوبی ریٹائیرڈ ہوجائیں گئ۔اللہ سے دعا ہے ڈاکڑ صاحب کی عمر عافیت کے ساتھ دراز ہو ،اور ریٹائیرڈمنٹ کے بعد کی زندگی پُر سکون گزرے۔۔








آفتاب عالم ؔ دستگیر پٹیل (شاہنوری)

کروشی ،بلگام کرناٹک

8105493349

Thursday, 24 February 2022

اردو کی صوتی کتابیں

 

دل کی آواز

آڈیو بک صوتی کتاب( کچھ تجربات)

 


 

آفتاب عالم دستگیر پٹیل

کرناٹک انڈیا

 

خدا نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں ۔ زبان خدا کی وہ عظیم دین ہیں جو صرف انسان کو عطا ہوئی ہے ۔ انسان کو حیوان ناطق کہا جاتا ہے ۔ زبان ہی کی بدولت اسے جانوروں پر فوقیت حاصل ہے ۔ جب انسان بولنا شروع کرتا ہے تو گویا اپنے مستقبل کے ارتقاء کی بنیاد ڈالتا ہے زبان تہذیب و تمدن کی سیڑھی ہے جس کے بغیر انسان، انسان نہیں کہلاتا ہے ۔ انسان نے زبان بنائی اور زبان نے انسان کو نکھار کر صحیح معنوں میں انسان بنایا ۔

آوازوں کو الفاظ میں ڈھال کر اپنے جذبات و احساسات کی ترجمانی کی قوت کو زبان کہتے ہیں ۔ یہ قوت صرف انسانوں میں پائی جاتی ہے ۔  زبان خوشی و غم ،جوش و خروش، سکھ دکھ،خوف و تردد وغیرہ کے اظہار کا ذریعہ ہے زبان اور تہذیب و تمدن کا رابطہ گہرا ہے ۔ کیونکہ زمانے کے اصول عقائد فلسفہ سائنس ٹیکنالوجی سیاست مذہب وغیرہ زبان ہی کی مرہون ہیں ۔ ۔ عالمی پس منظر میں دیکھا جائے تو زبان مختلف ملکوں کی تہذیبوں کو منسلک کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے کسی بھی تہذیب کو اگر مستقل طور پر پنپنا ہے تو زبان کی تقویت لازمی ہے ۔ کسی دانشور کا مقولہ ہے " کسی تہذیب کو ختم کرنے کے لئے اس کی زبان کا خاتمہ ضروری ہے "

 

کا غذ کی یہ مہک،یہ نشہ روٹھنے کو ہے

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

 

صوتی کتاب

 

کسی کتاب کے صوتی شکل میں محفوظ کردہ نسخے کو کہا جاتا ہے۔ جس میں ایک صدا کار کسی کتاب کے تمام تر مواد کو اپنی آواز میں ریکارڈ کراتا ہے۔کئی صدیوں تک کتابیں صرف کاغذپر چھاپ کر شائع کی جاتی تھیں،لیکن آج نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے کتابیں روایتی کاغذی اشاعت کے ساتھ ساتھ ای بک اور صوتی کتاب کی شکل میں بھی شائع کی جاتی ہیں۔ انیسویں صدی کے اختتام پر جب ایڈیسن نے فونوگراف ایجاد کیا تو اس کے بعد مقناطیسی پٹیوں پر آواز کو محفوط کرنے کی سہولت میسر آ گئی۔ فونو گراف کی ایجاد کے بعد بھی ایک جلد ہی نابینا افراد کے لیے کتابوں کو ریکارڈ کیا جانے لگا تا کہ بینائی سے محروم افراد بھی ان سے استفادہ کر سکیں۔ انہی ابتدائی صوتی کتب کو بولنے والی کتابیں بھی کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد کتابوں کو صوتی شکل میں ریکارڈ کرنے کا کام آہستگی سے جاری رہا مگر 1990 کی دہائی میں یہ ایک نئے کاروبار کی شکل اختیار کر گیا، جب جیبی سائز آڈیو پلئیر مارکیٹ میں دستیاب تھے اور ان میں سینکڑوں گھنٹوں کے دورانیہ کی صوتی ریکارڈنگ محفوظ کی جا سکتی تھی۔آج کل صوتی کتب کی صنعت ایک بڑی اور منافع بخش صنعت بن چکی ہے۔ مغرب میں شائع ہونے والی ہر مشہور کتاب صوتی شکل میں بھی دستیاب ہوتی ہے، جس کو صارفین اپنے اسمارٹ فون،ٹیبلٹ پر بہ آسانی سن سکتے ہیں۔

ویسے تو ساجدہ صاحبہ نےNarrators  کے لئے جو ہدایات بتائی ہیں وہ بہت ہی بہترین ہیں ان پر عمل کرکے ایکNarrator  بہترین سے بہترین انداز میں کتابوں کو ریکارڈ کرسکتا ہے،بحیثیت Narrator  میں نے ساجدہ صاحبہ کی ہدایات  پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ مزید چند چیزیں جو مجھے اپنے طور پرمحسوس ہوئیں اس کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔  جب مجھے پہلی کتاب منشی پریم چند کے منتخب  افسانے ریکارڈ کرنے کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ میں نے سب سے پہلے کتاب میں موجود منشی پریم چند کے افسانوں کی لِسٹ بنائی اور اسے یوٹیوب پر سرچ کیا اتفاق سے وہ سارے افسانے ایک سیریل کی شکل میں یوٹیوب پر مل گئے ۔ ۔ ۔ رات میں ایک افسانے کو دو ایک مرتبہ دیکھ کر اس افسانے میں موجود کرداروں کی آواز کے اتار چڑھاؤ کو سمجھ لیتا بعض مرتبہ میں نے ایک افسانے کو کئی کئی مرتبہ سنا ہے ۔ ۔ ۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلا جب ریکارڈنگ کرنے کے لئے بیٹھا تو شروع شروع میں بہت ساری دشواریاں  پیش آئیں ایک دشواری تو یہ ہو رہی تھی جب میں ریکارڈ کرنے کے لئے بیٹھتا تو پانچ سات منٹ کی ریکارڈنگ کے بعد کسی کتے کے چلانے کی آواز آتی یا کوئی دروازہ کھٹکھٹاتا یا باہر سے موٹر گاڑیوں کا شور کبھی بچوں کا شور جس سے ریکارڈنگ مجھے دوبارہ پہلے سے شروع کرنی پڑتی یہ سلسلہ بھی کئی دنوں تک چلا ۔ ۔ جب میں نے اس مسئلہ کے متعلق عرفات صاحب سے کہا تو انہوں نے کہا کہ ایک سافٹ ویئر آتا ہے جس کا نام ہے audacity تو اس کا استعمال کیجئے اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جہاں جب کبھی باہر کی آوازیں آئیں تو وہ حصہ کٹ کر کے وہاں سے آگے کی ریکارڈنگ کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ بدقسمتی سے میرے کمپیوٹر میں وہ سافٹ وئیر انسٹال نہیں ہوپا یا ۔ ۔ میں عرفات صاحب کا شکر گزار ہوں ان کی رہبری  کی وجہ سے مجھے کام کرنے کی ہمت  اور جوش میں اضافہ ہوا۔۔۔۔ساجدہ صاحبہ کی ایک ٹپ میں نے پڑھی تھی کہ انہوں نے کہا تھا کہ سب سے بہترین آواز صبح کے وقت کی ہوتی ہے تو میں نے اس پر عمل کیا اور صبح فجر کی نماز کے فورا بعد ریکارڈنگ کرنے کے لیے بیٹھ جاتا یہ وقت وہ ہوتا ہے جہاں عام طور پر بچوں کا شور اور دوسرے مسئلے نہیں ہوتے ۔ ۔ ۔ الحمدللہ ریکارڈنگ بہترین انداز میں چلنے لگی ۔ ۔ ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے تین کتابیں ریکارڈ ہوگئی 

 

ان تین کتابوں کی ریکارڈنگ کے  وقت میں نے جن چیزوں پر خاص توجہ دی وہ چیزی مندرجہ ذیل ہیں 

جس چیز کو مجھے پڑھنا ہوتا ہے میں اس کا پرنٹ نکلواتا ۔ ۔ اور پوری عبارت کو دو سے تین مرتبہ مکمل پڑھ لیتا  اور جہاں جہاں تلفظ کے اعتبار سے اعراب و علامت کی ضرورت ہوتی ہے وہاں ان اعراب و علامات کو قلم سے لگا دیتا ۔ 

اگر بالفرض کمپیوٹر میں دیکھ کر کتاب پڑھنی ہے تو جتنا حصہ مجھے پڑھنا ہے اس میں آنے والے مشکل الفاظ کے تلفظ کے اعراب و علامت کے ساتھ ان الفاظ کو ایک صفحے پر لکھ لیتا جس وقت وہ جملہ آتا تھا یہاں پر وہ لفظ دیکھ کر پڑھ لیتا ۔ 

گردن کو جھکا کر نہ پڑھتا تھا ۔ ۔ میں نے محسوس کیا کہ جب بھی میں نے گردن کو نیچے جھکا کر پڑھا ہے اس وقت آواز میں فرق آیا ہے دراصل گردن کی نلی دبنے کی وجہ سے آواز دب جاتی ہے اور کالیٹی میں فرق آتا ہے ۔

موبائل کو زیادہ نزدیک بھی نہ پکڑے اور نہ زیادہ دور بھی رکھیں زیادہ نزدیک پکڑنے سے مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کے ہونٹوں کے چپکنے کی اور تھوک نگلنے کے آوازیں ریکارڈنگ میں  آجاتی ہیں زیادہ دور پکڑنے سے ایسا لگتا ہے کہیں دور سے آواز آتی ہوئی معلوم ہوتی ہے جس سے سننے والے کو اتنا مزا نہیں آتا ۔ 

سفر کے دوران میں نے زیادہ تر دوسرے لوگوں کی کتابیں سنی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ضیا محی الدین  صاحب کو  زیادہ سنا ہے اس سے پڑھنے کے انداز کے بارے میں مجھے کچھ نئی باتیں ملی ۔

جہاں تک مجھے سمجھ میں آتا دینی کتابوں کو پڑھتے وقت  چند الفاظ یا فارسی کے اشعار ایسے ہوتے ہیں جن کا تلفظ آسانی سے کتابوں میں نہیں ملتا اس کے لئے علماء کے رابطے میں رہیں تو کام میں آسانی ہوسکتی ہے۔

میں نے کہیں پہ یہ بات سنی تھی اگر ایک کام پر روزانہ ایک گھنٹہ توجہ دیں تو آپ پانچ سال میں اس کے ایکسپرٹ  expert بن جائیں گے ۔ ۔ ۔ اسی کام پر آپ روزانہ دو گھنٹے توجہ دیں تو آپ ڈھائی سال کے اندر اس کے ایکسپرٹ بن جائیں گے ۔ ۔ اگر آپ اس پر چار گھنٹے توجہ دیں تو ایک سال میں ایکسپرٹ بن جائیں گے ۔ الحمداللہ میں روزانہ تقریبا چھ گھنٹے ریکارڈنگ کے کام سے جُڑا ہوں ۔ ۔

 

میں نے ایک ویڈیو میں آڈیو بک ریکارڈ کرنے والی ایک خاتون کو  کتاب   ریکارڈ کرنے کی ٹپس بتاتے ہوئے دیکھا جس سے مجھے بھی بہت فائدہ ہوا وہ ویڈیو یہاں اپ لوڈ کر رہا ہوں۔ 

مسلسل ریکارڈنگ کی وجہ سے بعض مرتبہ گلا بیٹھ جاتا تھا یا آواز صاف نہیں آتی تھی اس کا حل میں نے یہ نکالا ایک جڑی بوٹی ہے جس کا نام ملیٹھی ہے یہ دنیا کے ہر علاقے میں ملتی ہے ۔ ۔ ممکن ہے اسے الگ الگ نام سے پکارا جاتا ہوگا اس کے تعلق سے مختصر سی معلومات تحریر کر رہا ہوں ۔

ملیٹھی ہزاروں برس سے ادویات بنانے والوں کی نظر میں موجود ہے ۔ اسے جسمانی قوت بحال کرنے ، پیاس کی شدت کو کم کرنے ، بخار کی حدت کو کم کرنے ، کھانسی ،  درد اور سانس کی تکلیف دور کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ کیمیائی تجزیے کے مطابق اس میں گلائیسرائزین پایا جاتا ہے جو بطور دوا استعمال ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس میں شوگر کاربوہائیڈریٹس اور ایسڈ بھی پائے جاتے ہیں ۔ یہ بینائی  اور جسمانی طاقت میں اضافے کا باعث بنتی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ  رنگت نکھارنے ، بالوں کی سیاہی کو قائم رکھنے  اور آواز کو سریلا اور  خوبصورت بنانے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے ۔ ملیٹھی  زہر کے اثرات کو زائل کرنے اور زخموں کو مندمل کرنے کے لئے بھی بہترین ہے ۔ معدے میں ہونے والے امراض اور درد کے علاج کے لیے اس کا سفوف استعمال کیا جاتا ہے ۔ خشک جڑوں کے ٹکڑے رات بھر پانی میں بھگونے کے بعد صبح چاولوں کی پیچ کے ساتھ استعمال کرنا معدے کے السر میں بے حد مفید ہے ۔

سب سے آخر میں ایک چیز کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں کہ پچھلے کئی دنوں سے مجھے مسلسل پابندی سے کتابوں کو پڑھتے ہوئے دیکھ کر میرے ساڑھے تین سالہ بیٹے محمد تمیم کو کتابوں کا عجیب شوق پیدا ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ ہر وقت کتاب لیتا ہے اور اپنی توتلی زبان میں کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ الحمد اللہ اس بات کی مجھے بے انتہا خوشی ہے کہ موجودہ دنوں میں جہاں بچوں کا زیادہ وقت موبائیل پر گزرتا ہے آڈیو بک کی وجہ سے ہمارے گھر کے بچوں میں کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہو رہا ہے ۔ ۔ عرفات صاحب نے بچے کا آڈیو کلپ گروپ میں شئیر کیا ہے ۔ ۔ ۔ ایک ویڈیو اپ لوڈ اس امید سے کررہا ہوں کہ کہ آپ بچے کو دعاؤں سے نوزایں گے،بس میں پنج تنتر کی کہانیوں کی کتاب کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہا ہوں تاکہ اپنے بچے کو  سنا سکوں ۔ 

 

یہ چند باتیں ایسی ہیں جو مجھے محسوس ہوئی ۔ ۔ ۔  ویسے تو یو اے بی نریٹر گروپ میں اتنے بڑے بڑے لوگ ہیں کہ وہ چاہیں تو  اس عنوان پر مستقل ایک کتاب لکھ دیں ،میرے تجربات پر مشتمل ایک عام فہم زبان میں لکھی گئی تحریر ہے امید ہے آپ کو پسند آئی ہوگی اگر کہیں کسی قسم کی غلطی ہو تو معاف کریں جزاک اللہ

کرناٹک اردو اکادمی ۔ ۔ ملک کی مثالی اردو اکادمی ۔ ۔ ۔

کرناٹک اردو اکادمی  ۔ ۔ ملک کی مثالی اردو اکادمی ۔ ۔ ۔ آفتاب عالم ؔ شاہ نوری بلگام کرناٹک 8105493349 "ہر اردو اکادمی اردو کا ای...