Sunday, 24 December 2023

طالب علموں کی پسند عزیز بلگامی

 

 

طالب علموں کی پسند عزیز بلگامی



 (آفتاب عالمؔ شاہ نوری کروشی بلگام ۹؍دسمبر،۲۰۲۳ء

 درس و تدریس کے میدان میں ہر وقت نت نئی تبدیلیاں رُونماہوتی رہتی ہیں۔ کبھی تعلیمی نصاب کو موقع و محل اور ضرورت کے اعتبار سے بدلا جاتا ہے اور کبھی نیے تعلیمی دِلچسپی کے اُمور کو نصاب میں داخل کیا جاتا ہے جو طلباء کے لیے مفید ہوتی ہیں۔ اس بار حکومت کرناٹک کے تعلیمی شعبے نے پی یو سی جونیئر کالج کے سالانہ سوالوں کے پرچے میں بڑی تبدیلی کر دی ہے۔ جہاں طلباء ہر بار سالانہ امتحان میں سو 100مارکس کا پرچہ لکھا کرتے تھے، اِمسال سے 80 مارکس کا پرچہ لکھیں گے۔ بقیہ 20 مارکس میں سے 10 مارکس پروجیکٹ اسائنمنٹ ورک کے لیے اور 10 مارکس ٹیسٹ اور ششمائی امتحان میں طلباء کے حاصل کردہ نمبرات کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔ 10 مارکس کے پروجیکٹ اسائنمنٹ کے تعلق سے حکومتِ کرناٹک بنگلورو کے تعلیمی شعبے نے بطور نمونہ اردو کے چند سوالات بھیجے تھے، جن میں سے ایک سوال کا انتخاب کر کے بچوں کو اسائنمنٹ لکھنا ہوتا تھا۔ چکوڑی تعلیمی ضلع کے اُردو شعبے کے اِنچارج محترم یوسف خان پٹھان صاحب اور مرارجی دیسائی گرلز کالج چکوڑی کے مہمان اُردو لیکچرارجناب آفتاب عالم دستگیر پٹیل شاہ نوری صاحب نے اس پر بحث کر کے چند سوالات کو اپنے تعلیمی ضلع کے لیے چن لیا۔ جسے جناب آفتاب عالم دستگیر پٹیل شاہ نوری نے اپنے طور پر سوالات کے ساتھ جوابات کو نوٹس کی شکل میں بنایا اور اس کی کا پی ڈی ایف PDF بنا کر چکوڑی اور بلگام تعلیمی ضلع میں عام کر دیا۔ اسے اتفاق کہیں یا طلبہ کی عالمی شہرت یافتہ شاعر عزیز بلگامی سے محبت… اکثر و بیشتر طلباء نے محترم جناب عزیز بلگامی صاحب کے انٹرویو کے سوال کا انتخاب کیا اور انہی پر اسائنمنٹ لکھا۔

محترم عزیز بلگامی صاحب ہماری ریاست ہی نہیں، بلکہ عالمی سطح پر مشہور و معروف شاعر ہیں۔ ان کے بغیر جدید شاعری کا تذکرہ ادھورا ہے ۔ یوں تو پی یو سی کے نصاب میں محترم جناب عزیز بلگامی صاحب کا کلام شامل ہے اس کے علاوہ ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں بھی ان کے کلام کو بطور نصاب پڑھایا جا رہا ہے۔ہمارا گمان تھا کہ صرف چکوڑی اور بلگام کے تعلیمی ضلع کے طلباء و طالبات ہی نے محترم عزیز بلگامی صاحب کا انٹرویو بطور اسائنمنٹ لکھا ہے، مگر تحقیق پر معلوم ہوا کہ کرناٹک کے طلبہ کی ایک کثیر تعداد نے عزیز بلگامی صاحب پر اسائنمنٹ لکھ کر اپنی محبتوں کا ثبوت دیا ہے۔


آفتاب عالمؔ دستگیر پٹیل (شاہ نوری کروشی)

مرار جی دیسائی گرلز کالج مہمان اردو لیکچرار

چکوڑی بلگام کرناٹک

8105493349

واٹس ایپ کے گروپ ایڈمن اور ممبران سے گزارش

 

واٹس ایپ کے گروپ ایڈمن اور ممبران سے گزارش


اللہ تعالیٰ نے انسان کی طبیعت کو تازگی پسند بنایا ہے ۔ اگر آٹھوں پہر ایک ہی طرح کا کام انجام دیا جائے یا ایک ہی طرح کے کام میں خود کو مصروف رکھا جائے تو عین ممکن ہے کہ غیر محسوس طریقے سے ہمارے ذہن پر تناؤ پڑھ سکتا ہے ۔ موجودہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور نے انسان کو چوبیس گھنٹے مصروف بنا رکھا ہے ۔ انسان جانے انجانے میں اتنا وقت ضائع کر رہا ہے نہ جس کا کوئی حساب ہے نہ کوئی اندازہ ۔ کچھ دیر کے لیے سوچ کر دیکھیں کہ ہم کہاں ہیں اور سوشل میڈیا ہمیں کس برق رفتاری کے ساتھ لے جا رہا ہے اگر اسی رفتار سے ہم سماجی میڈیا سے جڑے رہے گے، اور دس برس کے بعد اپنی ذات کا محاسبہ کریں تو بقول شاعر ہمارا حال کچھ یوں ہوگا ۔

' پھرآگئے وہیں پہ چلے تھے جہاں سے ہم '

کیا واٹس ایپ گروپس پر ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔۔؟

میں نے برسوں پہلے ایک واقعہ کسی بزرگ کی کتاب میں پڑھا یا سنا تھا ۔ یہ ایک بوڑھی اماں رات کے اندھیرے میں بجلی کے کھمبے کے نیچے اپنا پیسوں سے بھرا ہوا بٹوا تلاش کر رہی تھی ۔ اُدھر سے ایک نوجوان کا گزر ہوا بوڑھی اماں کو پریشان دیکھ کر نوجوان نے پوچھا اماں کیا ہوا؟ بوڑھی اماں کہنے لگی بیٹا میرا پیسوں سے بھرا ہوا بٹوا کھو گیا ہے ۔ اس بوڑھی اماں کی مدد کی غرض سے بجلی کے کھمبے کے نیچے نوجوان لڑکا تھوڑی دیر ادھر ادھر تلاش کرنے کے بعد کہنے لگا اماں ذرا یاد کرو کہ کھمبے کی کس جانب تمہارا بٹوا گرا تھا ۔ بوڑھی اماں نے کہا بیٹا بٹوا تو گھر میں کھویا ہے ۔ ۔ ۔ ! نوجوان نے کہا تو پھر یہاں کیوں ڈھونڈ رہی ہو ؟ تو بوڑھی اماں کہنے لگی بیٹا کیا کروں گھر میں بہت اندھیرا ہے یہاں بجلی کے کھمبے کے نیچے اجالا ہے اسی لیے یہاں ڈھونڈ رہی ہوں ۔ ۔ ۔ آپ کا کیا خیال ہے اگر ساری زندگی بھی بوڑھی اماں بجلی کے کھمبے کے نیچے بٹوا ڈھونڈے گی تو کیا اسے بٹوا مل سکتا ہے ۔ ۔ ۔ ؟

بالکل اسی طرح موجودہ دور کا انسان بھی سوشیل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس پر بحث کر کے دنیا جہان کے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اور روز بروز نئے نئے واٹس ایپ کے گروپس گریٹ کر رہا ہے ۔ میری معلومات کے مطابق ایسے چند ہی گروپ ہوں گے جن کا جیسا نام ہوتا ہے ویسا کام ہوتا ہے ان کی تعداد تو خیر آٹے میں نمک کے برابر ہے ۔ ۔ ورنہ اکثریت تو ایسے واٹس ایپ گروپس کی ہے جو بے فضول کی بحث میں اپنے شب و روز گزار رہے ہیں ۔ ۔

بحیثیت واٹس ایپ ایڈمن آپ کیا کر سکتے ہیں ۔ ۔ ؟؟

* کوئی بھی نیا گروپ کریٹ کرنے سے پہلے تھوڑی دیر اس بات کو ضرور سوچیں کیا اس گروپ سے امت کا دینی یا دنیوی فائدہ ہو سکتا ہے ۔ ۔ ؟ اگر فائدہ ہونے کے امکانات ہیں تو مخلص سمجھدار احباب کو تلاش کر کے گروپ میں شامل کرنا شروع کریں ۔

* گروپ کے اغراض و مقاصد اور قوانین کو احباب کے مشورے سے طے کریں ۔

* گروپ کی تعداد کو بڑھانے کی غرض سے دیگر گروپ میں لنک ہرگز نہ شیئر کریں ورنہ گروپ میں ایسے افراد کی شمولیت کا امکان ہے جو گروپ کی فضا کو خراب کریں گے ۔

* سب سے اہم اور ضروری بات جس کے لیے میں نے قلم اٹھایا ہے وہ یہ ہے کہ گروپ ایڈمن اپنے گروپ کے لیے ایک وقت متعین کریں یعنی صبح دس سے رات دس بجے تک ۔ ۔ اور رات دس بجے کے بعد سے اونلی ایڈمن کر دیں ۔ ۔ اگر کوئی ضروری پیغام ہے تو ایڈمن اس کے پیغام کو ریسو کر کے گروپ میں فارورڈ کر دیں ۔ ۔  اگر ایسا نہ کیا گیا تو یاد رکھیں رات دیر تک لوگ واٹس ایپ پر مصروف رہیں گے ہو نہ ہو خدا اس متعلق آپ سے سوال کرے کہ تم تو آرام سے سو گئے اور دیگر لوگوں کو کام پر لگا گئے ۔

* گروپ کے قوانین توڑنے پر ایک دو مرتبہ پرسنل میسج بھیج کر سمجھائیں کیونکہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے جس نے تنہائی میں کسی کو نصیحت کی اس نے نبیوں والا کام کیا سامنے والے کی رہنمائی کی اور جس نے لوگوں کے مجمع میں کسی کو نصیحت کی گویا اس نے فرعون والا کام کیا سامنے والے کو رسوا کیا ۔ ۔ میرا خیال ہے اس طریقے سے فائدہ ضرور ہوگا اگر پھر بھی نہ مانے تو عزت کے ساتھ انہیں گروپ سے رخصت کر دیں ۔ ۔

بحیثیت گروپ ممبر آپ کیا کر سکتے ہیں ۔ ۔ ؟

* کسی بھی گروپ میں شمولیت سے پہلے اس حدیث کو ضرور ذہن میں رکھیں " من کثر سواد قوم فھو منھم ۔۔جو کسی جماعت کی تعداد بڑھا دے اس کا شمار انہی میں ہوگا " اس حدیث کے ٹکڑے کو ذہن میں رکھنے کا فائدہ یہ ہوگا کہ انسان ایسے ویسے گروپ سے اپنے آپ کو دور رکھے گا ۔

* گروپ جوائن کرنے سے پہلے گروپ ممبران پر ایک نظر ڈالیں دو چار دن تک گروپ میں رہ کر دیکھیں پڑھے لکھے مہذب سمجھدار لوگ ہیں تو گروپ میں رہیں ورنہ لیفٹ ہو جائے ۔

* خواتین محتاط رہیں ۔

* بار بار قوانین توڑے جا رہے ہوں تو فورا لیفٹ ہو جائے ۔ کیونکہ قیامت کی صبح تک بھی ایسے لوگ نہیں سدھریں گے ۔ ہر روز ایک نیا ممبر گروپ کے قوانین کو توڑتا ہوا نظر آئے گا ۔ ۔

* کسی ایسی چیز کو بحث کا موضوع نہ بنائیں جس سے نہ دین کا فائدہ ہو نہ دنیا کا ۔

یہ چند موٹی موٹی باتیں اور گزارشات تھیں میری امید ہے احباب اس کو سنجیدگی کے ساتھ پڑھیں گے اور دعاؤں سے نوازیں گے ۔ ۔

 

احقر :

آفتاب عالم ؔدستگیر پٹیل (شاہ نوری)

 کروشی بلگام کرناٹک

8105493349

Sunday, 2 July 2023

مخلص استاد ،حساس شاعر ڈاکٹر یاسین راہیؔ تراسگر

 مخلص استاد  ،حساس شاعر

ڈاکٹر یاسین راہیؔ تراسگر


 

ہر ابتدا سے پہلے ہر انتہا کے بعد

ذاتِ نبی ﷺ بلند ہے ذات ِخدا کے بعد

دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ

میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفٰیﷺ کے بعد

 

دنیا کی اس مختصر سی زندگی میں مجھے بہت سارے اساتذہ اور شعرا ء سے ملنے کا اتفاق ہوا ۔ مگر جتنا میں ڈاکٹر یاسین راہی ؔصاحب سے متاثر ہوا ہوں ،شاید ہی اتنا کسی سے متاثر ہو سکا،اس کی ایک اہم اور بنیادی وجہ ان کی منکسر المزاجی اور اخلاص ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو انسان ڈاکٹر صاحب سے ایک بار مل لے وہ بار بار ملنے کی تمنا کرے گا، کیونکہ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت میں  ایسی جاذبیت ہے جو انسان کو نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے قریب کرتی ہے ۔ اور ان میں وہ تمام خصوصیات اور قابیلتیں موجود ہیں جو اعلیٰ انسانوں اور شخصیات میں پائی جاتی ہیں ۔ یوں تو ہر انسان کو اپنے متعلق کسی نہ کسی چیز کے پانے یا کھونے کا افسوس ہوتا  ہی ہے ۔ مجھے جس چیز کا افسوس ہے وہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے میری ملاقات پہلے کیوں نہیں ہوئی ۔ ۔ ؟

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے

تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

ائے کاش ڈاکٹر صاحب سے میری ملاقات طالب ِعلمی کے زمانے میں ہوئی ہوتی تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے ذریعے مجھےبہت سارا علمی فیض  مل جاتا ۔ خیر یہ تو مقدر کی بات تھی مگر ان کے ذریعے مجھے جتنافیض  ملا ہے وہ بھی کم نہیں ہے ۔ کیونکہ ان جیسی پاک ہستیوں کا زندگی میں آنا ہی  بہت بڑی سعادت ہے ۔ اس بات پر میں جتنا الله کا شکر ادا کروں وہ کم ہے ۔

جہاں تک درس و تدریس کا معاملہ ہے میں سمجھتا ہوں ہمارے پورے علاقے میں ان جیسے مخلص اساتذہ  کم ہی ملیں گے  ۔ ڈاکٹر صاحب کو اپنے پیشے سے والہانہ محبت ہے ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ برسوں گزر جاتے تھے مگر ڈاکٹر صاحب چھٹی نہیں لیتے ۔اپنے مضمون پر گہرا علم رکھتے ہیں،بات کو اس طرح سمجھاتے ہیں کہ غبی سے غبی ذہن کا بچہ آسانی سے سمجھ لے۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ مجھے کئی مرتبہ سفر کرنے کا بھی موقع ملا اور جہاں جہاںہمارا  جانا ہوا وہاں وہاں ان کے شاگردوں کا ایک بڑا ہجوم ملا ۔ اور ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ان کے قابل اور با صلاحیت  شاگردوں کا خلوص اور پیار دیکھ کر ذہن میں یہ شعر گونج اٹھتا تھا ۔

ہر آں کارے کہ بے استاد باشد

یقین دانی کہ بے بنیاد باشد

ترجمہ : ہر وہ بندہ جو بے استاد ہوتا ہے یقین مانو کہ وہ بے بنیاد ہوتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ان کے شاگردوں کا  جو ادب و احترام  معاملہ ہے اس طرح کا ادب و احترام آج کے زمانے میں بہت کم نظر آتا ہے،ویسے تو ڈاکٹر صاحب کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ ان میں سے کئی ایک سے ملنے کا موقع بھی ملا ۔ مگر ڈاکٹر صاحب کے دو شاگرد ایسے ہیں جن سے بار بار فون پر بات چیت بھی ہوتی رہی اور کئی مرتبہ ملنے کا موقع بھی ملا ۔ ان میں سے  ایک ہیں ارشاد احمد سوداگر صاحب مالک ہوٹل نیاز بلگام ۔ اور دوسرے ہیں شفیق صاحب مالک ہوٹل گرین تاج بلگام ۔ جب جب ان دونوں صاحبان سے بات چیت یا ملاقات ہوئی ہے میرا جہاں تک خیال ہے صرف علمی بات چیت ہی ہوئی ہے ۔ میں اکثر سوچا کرتا تھا ایسی علمی صلاحیت، اردو سے ایسی محبت ،سخن فہمی  اور مطالعہ کا ایسا نکھرا ذوق ایسے مصروف اشخاص میں کیسے آیا ۔ ۔ ؟ میرے دل میں صرف ایک ہی جواب آتا رہا وہ ہیں ڈاکٹر یاسین راہیؔ تراسگر صاحب کی شاگردگی کی برکتیں ۔ ۔

دیکھا نہ کوہ کن کوئی فرہاد کے بغیر

آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر

ڈاکٹر صاحب کے دو شعری مجموعے " قطرہ قطرہ دریا  دیکھوں " اور گلاب لہجہ " منظر  عام پہ آچکے  ہیں  ۔ ڈاکٹر صاحب اس برق رفتاری کی ساتھ غزلیں کہتے ہیں کی عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ مشکل سے مشکل موضوعات کو آسانی سے پیش کرتے ہیں گویا الفاظ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں اور وہ جس طرح  چاہتے ہیں چُن لیتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب نے ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے ۔ مگر ان کی سہل ممتنع میں کہی گئی غزلوں کا جواب نہیں ۔ میں اکثر ان سے کہتا بھی رہتا ہوں کہ آپ اس دور کے ناصر کاظمی ہیں ۔ ۔ ڈاکٹر صاحب کی سینکڑوں سہل ممتنع  میں کہی گئی غزلیں ہیں جنہیں آئیندہ آنے والے ایام میں کتابی شکل دینا باقی ہے ۔شہرت اور صلے سےدور  اردو  زبان و ادب کی خاموشی سے  خدمت کرنے والے دورِ حاضر میں بہت کم ملیں گے، جہاں تک ڈاکٹر صاحب کی مشاعر وں میں شرکت کی بات ہے ان کا پڑھنے کا انداز سیدھا سادھا اور  دل کو چھو لینے والا ہوتا ہے، ان کی ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ دوسرے شرکاء کو  بھی مشاعرہ پڑھنے کا موقع ملے،  بار بار ایک ہی کلام سنانے سے گریز کرتے ہیں ہر بار نئی غزلیں سامعین کو سننے کا موقع ملتا ہے، ڈاکٹر صاحب کو بناوٹ سے چِڑھ ہے، خاص طور پر آج کل کے شعرا ءجس انداز  سےداد بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں یہ انہیں سخت نا پسند ہے اس طرح کرنے والوں کے لئے یہ کہتے تھے کہ یہ مشاعرہ نہیں پڑھ رہے  بلکہ اداکاری کر رہے ہیں ۔

کچھ باتیں مصنف کے بارے میں : مفتی نوشاد زاہد صاحب جید عالمِ دین ،شاعر،مصنف اور ایک بہترین شخصیت کے مالک ہیں، مدرسہ بالیکندری میں بحیثیتِ صدر مدرس اپنی دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ طبیعت میں سادگی ، بڑوں کا احترام ، چھوٹوں پر شفقت ، شعلہ بیاں مقرر ،  شاعری سے لگاؤ ، بالخصوص نعتیہ شعر رقم کرنا ، ان کی اہم خصوصیات ہیں  ۔مفتی صاحب کو میں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے ایسی معتبر شخصیت کی حیات و خدمات پر قلم اٹھایا ہے جسے آنے والی نسلیں ان کے کلام اور زندگی کو  بڑے ذوق و  شوق سے پڑھیں گی۔

پنشن ہوگئی ہے کیا بات ہے اپنی

اب دن بھی ہے اپنا اور رات بھی اپنی

اب اور ہی کچھ ہے مرے دن رات کا عالم

ہر وقت ہی رہتا ہے ملاقات کا عالم

میرا خیال ہے اس کتاب کی رسم اجرا تک ڈاکٹر صاحب  بلگام کے معروف ادارے اسلامیہ ہائی  اسکول و کمپوزٹ پی یو کالج سے بحسن ِ خوبی ریٹائیرڈ ہوجائیں گئ۔اللہ سے دعا ہے ڈاکڑ صاحب کی عمر عافیت کے ساتھ دراز ہو ،اور ریٹائیرڈمنٹ کے بعد کی زندگی پُر سکون گزرے۔۔








آفتاب عالم ؔ دستگیر پٹیل (شاہنوری)

کروشی ،بلگام کرناٹک

8105493349

Thursday, 24 February 2022

اردو کی صوتی کتابیں

 

دل کی آواز

آڈیو بک صوتی کتاب( کچھ تجربات)

 


 

آفتاب عالم دستگیر پٹیل

کرناٹک انڈیا

 

خدا نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں ۔ زبان خدا کی وہ عظیم دین ہیں جو صرف انسان کو عطا ہوئی ہے ۔ انسان کو حیوان ناطق کہا جاتا ہے ۔ زبان ہی کی بدولت اسے جانوروں پر فوقیت حاصل ہے ۔ جب انسان بولنا شروع کرتا ہے تو گویا اپنے مستقبل کے ارتقاء کی بنیاد ڈالتا ہے زبان تہذیب و تمدن کی سیڑھی ہے جس کے بغیر انسان، انسان نہیں کہلاتا ہے ۔ انسان نے زبان بنائی اور زبان نے انسان کو نکھار کر صحیح معنوں میں انسان بنایا ۔

آوازوں کو الفاظ میں ڈھال کر اپنے جذبات و احساسات کی ترجمانی کی قوت کو زبان کہتے ہیں ۔ یہ قوت صرف انسانوں میں پائی جاتی ہے ۔  زبان خوشی و غم ،جوش و خروش، سکھ دکھ،خوف و تردد وغیرہ کے اظہار کا ذریعہ ہے زبان اور تہذیب و تمدن کا رابطہ گہرا ہے ۔ کیونکہ زمانے کے اصول عقائد فلسفہ سائنس ٹیکنالوجی سیاست مذہب وغیرہ زبان ہی کی مرہون ہیں ۔ ۔ عالمی پس منظر میں دیکھا جائے تو زبان مختلف ملکوں کی تہذیبوں کو منسلک کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے کسی بھی تہذیب کو اگر مستقل طور پر پنپنا ہے تو زبان کی تقویت لازمی ہے ۔ کسی دانشور کا مقولہ ہے " کسی تہذیب کو ختم کرنے کے لئے اس کی زبان کا خاتمہ ضروری ہے "

 

کا غذ کی یہ مہک،یہ نشہ روٹھنے کو ہے

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی

 

صوتی کتاب

 

کسی کتاب کے صوتی شکل میں محفوظ کردہ نسخے کو کہا جاتا ہے۔ جس میں ایک صدا کار کسی کتاب کے تمام تر مواد کو اپنی آواز میں ریکارڈ کراتا ہے۔کئی صدیوں تک کتابیں صرف کاغذپر چھاپ کر شائع کی جاتی تھیں،لیکن آج نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے کتابیں روایتی کاغذی اشاعت کے ساتھ ساتھ ای بک اور صوتی کتاب کی شکل میں بھی شائع کی جاتی ہیں۔ انیسویں صدی کے اختتام پر جب ایڈیسن نے فونوگراف ایجاد کیا تو اس کے بعد مقناطیسی پٹیوں پر آواز کو محفوط کرنے کی سہولت میسر آ گئی۔ فونو گراف کی ایجاد کے بعد بھی ایک جلد ہی نابینا افراد کے لیے کتابوں کو ریکارڈ کیا جانے لگا تا کہ بینائی سے محروم افراد بھی ان سے استفادہ کر سکیں۔ انہی ابتدائی صوتی کتب کو بولنے والی کتابیں بھی کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد کتابوں کو صوتی شکل میں ریکارڈ کرنے کا کام آہستگی سے جاری رہا مگر 1990 کی دہائی میں یہ ایک نئے کاروبار کی شکل اختیار کر گیا، جب جیبی سائز آڈیو پلئیر مارکیٹ میں دستیاب تھے اور ان میں سینکڑوں گھنٹوں کے دورانیہ کی صوتی ریکارڈنگ محفوظ کی جا سکتی تھی۔آج کل صوتی کتب کی صنعت ایک بڑی اور منافع بخش صنعت بن چکی ہے۔ مغرب میں شائع ہونے والی ہر مشہور کتاب صوتی شکل میں بھی دستیاب ہوتی ہے، جس کو صارفین اپنے اسمارٹ فون،ٹیبلٹ پر بہ آسانی سن سکتے ہیں۔

ویسے تو ساجدہ صاحبہ نےNarrators  کے لئے جو ہدایات بتائی ہیں وہ بہت ہی بہترین ہیں ان پر عمل کرکے ایکNarrator  بہترین سے بہترین انداز میں کتابوں کو ریکارڈ کرسکتا ہے،بحیثیت Narrator  میں نے ساجدہ صاحبہ کی ہدایات  پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ مزید چند چیزیں جو مجھے اپنے طور پرمحسوس ہوئیں اس کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔  جب مجھے پہلی کتاب منشی پریم چند کے منتخب  افسانے ریکارڈ کرنے کا موقع ملا ۔ ۔ ۔ میں نے سب سے پہلے کتاب میں موجود منشی پریم چند کے افسانوں کی لِسٹ بنائی اور اسے یوٹیوب پر سرچ کیا اتفاق سے وہ سارے افسانے ایک سیریل کی شکل میں یوٹیوب پر مل گئے ۔ ۔ ۔ رات میں ایک افسانے کو دو ایک مرتبہ دیکھ کر اس افسانے میں موجود کرداروں کی آواز کے اتار چڑھاؤ کو سمجھ لیتا بعض مرتبہ میں نے ایک افسانے کو کئی کئی مرتبہ سنا ہے ۔ ۔ ۔ یہ سلسلہ کئی دنوں تک چلا جب ریکارڈنگ کرنے کے لئے بیٹھا تو شروع شروع میں بہت ساری دشواریاں  پیش آئیں ایک دشواری تو یہ ہو رہی تھی جب میں ریکارڈ کرنے کے لئے بیٹھتا تو پانچ سات منٹ کی ریکارڈنگ کے بعد کسی کتے کے چلانے کی آواز آتی یا کوئی دروازہ کھٹکھٹاتا یا باہر سے موٹر گاڑیوں کا شور کبھی بچوں کا شور جس سے ریکارڈنگ مجھے دوبارہ پہلے سے شروع کرنی پڑتی یہ سلسلہ بھی کئی دنوں تک چلا ۔ ۔ جب میں نے اس مسئلہ کے متعلق عرفات صاحب سے کہا تو انہوں نے کہا کہ ایک سافٹ ویئر آتا ہے جس کا نام ہے audacity تو اس کا استعمال کیجئے اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جہاں جب کبھی باہر کی آوازیں آئیں تو وہ حصہ کٹ کر کے وہاں سے آگے کی ریکارڈنگ کر سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ بدقسمتی سے میرے کمپیوٹر میں وہ سافٹ وئیر انسٹال نہیں ہوپا یا ۔ ۔ میں عرفات صاحب کا شکر گزار ہوں ان کی رہبری  کی وجہ سے مجھے کام کرنے کی ہمت  اور جوش میں اضافہ ہوا۔۔۔۔ساجدہ صاحبہ کی ایک ٹپ میں نے پڑھی تھی کہ انہوں نے کہا تھا کہ سب سے بہترین آواز صبح کے وقت کی ہوتی ہے تو میں نے اس پر عمل کیا اور صبح فجر کی نماز کے فورا بعد ریکارڈنگ کرنے کے لیے بیٹھ جاتا یہ وقت وہ ہوتا ہے جہاں عام طور پر بچوں کا شور اور دوسرے مسئلے نہیں ہوتے ۔ ۔ ۔ الحمدللہ ریکارڈنگ بہترین انداز میں چلنے لگی ۔ ۔ ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے تین کتابیں ریکارڈ ہوگئی 

 

ان تین کتابوں کی ریکارڈنگ کے  وقت میں نے جن چیزوں پر خاص توجہ دی وہ چیزی مندرجہ ذیل ہیں 

جس چیز کو مجھے پڑھنا ہوتا ہے میں اس کا پرنٹ نکلواتا ۔ ۔ اور پوری عبارت کو دو سے تین مرتبہ مکمل پڑھ لیتا  اور جہاں جہاں تلفظ کے اعتبار سے اعراب و علامت کی ضرورت ہوتی ہے وہاں ان اعراب و علامات کو قلم سے لگا دیتا ۔ 

اگر بالفرض کمپیوٹر میں دیکھ کر کتاب پڑھنی ہے تو جتنا حصہ مجھے پڑھنا ہے اس میں آنے والے مشکل الفاظ کے تلفظ کے اعراب و علامت کے ساتھ ان الفاظ کو ایک صفحے پر لکھ لیتا جس وقت وہ جملہ آتا تھا یہاں پر وہ لفظ دیکھ کر پڑھ لیتا ۔ 

گردن کو جھکا کر نہ پڑھتا تھا ۔ ۔ میں نے محسوس کیا کہ جب بھی میں نے گردن کو نیچے جھکا کر پڑھا ہے اس وقت آواز میں فرق آیا ہے دراصل گردن کی نلی دبنے کی وجہ سے آواز دب جاتی ہے اور کالیٹی میں فرق آتا ہے ۔

موبائل کو زیادہ نزدیک بھی نہ پکڑے اور نہ زیادہ دور بھی رکھیں زیادہ نزدیک پکڑنے سے مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کے ہونٹوں کے چپکنے کی اور تھوک نگلنے کے آوازیں ریکارڈنگ میں  آجاتی ہیں زیادہ دور پکڑنے سے ایسا لگتا ہے کہیں دور سے آواز آتی ہوئی معلوم ہوتی ہے جس سے سننے والے کو اتنا مزا نہیں آتا ۔ 

سفر کے دوران میں نے زیادہ تر دوسرے لوگوں کی کتابیں سنی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ضیا محی الدین  صاحب کو  زیادہ سنا ہے اس سے پڑھنے کے انداز کے بارے میں مجھے کچھ نئی باتیں ملی ۔

جہاں تک مجھے سمجھ میں آتا دینی کتابوں کو پڑھتے وقت  چند الفاظ یا فارسی کے اشعار ایسے ہوتے ہیں جن کا تلفظ آسانی سے کتابوں میں نہیں ملتا اس کے لئے علماء کے رابطے میں رہیں تو کام میں آسانی ہوسکتی ہے۔

میں نے کہیں پہ یہ بات سنی تھی اگر ایک کام پر روزانہ ایک گھنٹہ توجہ دیں تو آپ پانچ سال میں اس کے ایکسپرٹ  expert بن جائیں گے ۔ ۔ ۔ اسی کام پر آپ روزانہ دو گھنٹے توجہ دیں تو آپ ڈھائی سال کے اندر اس کے ایکسپرٹ بن جائیں گے ۔ ۔ اگر آپ اس پر چار گھنٹے توجہ دیں تو ایک سال میں ایکسپرٹ بن جائیں گے ۔ الحمداللہ میں روزانہ تقریبا چھ گھنٹے ریکارڈنگ کے کام سے جُڑا ہوں ۔ ۔

 

میں نے ایک ویڈیو میں آڈیو بک ریکارڈ کرنے والی ایک خاتون کو  کتاب   ریکارڈ کرنے کی ٹپس بتاتے ہوئے دیکھا جس سے مجھے بھی بہت فائدہ ہوا وہ ویڈیو یہاں اپ لوڈ کر رہا ہوں۔ 

مسلسل ریکارڈنگ کی وجہ سے بعض مرتبہ گلا بیٹھ جاتا تھا یا آواز صاف نہیں آتی تھی اس کا حل میں نے یہ نکالا ایک جڑی بوٹی ہے جس کا نام ملیٹھی ہے یہ دنیا کے ہر علاقے میں ملتی ہے ۔ ۔ ممکن ہے اسے الگ الگ نام سے پکارا جاتا ہوگا اس کے تعلق سے مختصر سی معلومات تحریر کر رہا ہوں ۔

ملیٹھی ہزاروں برس سے ادویات بنانے والوں کی نظر میں موجود ہے ۔ اسے جسمانی قوت بحال کرنے ، پیاس کی شدت کو کم کرنے ، بخار کی حدت کو کم کرنے ، کھانسی ،  درد اور سانس کی تکلیف دور کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ کیمیائی تجزیے کے مطابق اس میں گلائیسرائزین پایا جاتا ہے جو بطور دوا استعمال ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ اس میں شوگر کاربوہائیڈریٹس اور ایسڈ بھی پائے جاتے ہیں ۔ یہ بینائی  اور جسمانی طاقت میں اضافے کا باعث بنتی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ  رنگت نکھارنے ، بالوں کی سیاہی کو قائم رکھنے  اور آواز کو سریلا اور  خوبصورت بنانے کے لیے بھی استعمال ہوتی ہے ۔ ملیٹھی  زہر کے اثرات کو زائل کرنے اور زخموں کو مندمل کرنے کے لئے بھی بہترین ہے ۔ معدے میں ہونے والے امراض اور درد کے علاج کے لیے اس کا سفوف استعمال کیا جاتا ہے ۔ خشک جڑوں کے ٹکڑے رات بھر پانی میں بھگونے کے بعد صبح چاولوں کی پیچ کے ساتھ استعمال کرنا معدے کے السر میں بے حد مفید ہے ۔

سب سے آخر میں ایک چیز کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں کہ پچھلے کئی دنوں سے مجھے مسلسل پابندی سے کتابوں کو پڑھتے ہوئے دیکھ کر میرے ساڑھے تین سالہ بیٹے محمد تمیم کو کتابوں کا عجیب شوق پیدا ہوگیا ہے ۔ ۔ ۔ ہر وقت کتاب لیتا ہے اور اپنی توتلی زبان میں کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا ہے ۔ ۔ ۔ الحمد اللہ اس بات کی مجھے بے انتہا خوشی ہے کہ موجودہ دنوں میں جہاں بچوں کا زیادہ وقت موبائیل پر گزرتا ہے آڈیو بک کی وجہ سے ہمارے گھر کے بچوں میں کتابیں پڑھنے کا شوق پیدا ہو رہا ہے ۔ ۔ عرفات صاحب نے بچے کا آڈیو کلپ گروپ میں شئیر کیا ہے ۔ ۔ ۔ ایک ویڈیو اپ لوڈ اس امید سے کررہا ہوں کہ کہ آپ بچے کو دعاؤں سے نوزایں گے،بس میں پنج تنتر کی کہانیوں کی کتاب کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہا ہوں تاکہ اپنے بچے کو  سنا سکوں ۔ 

 

یہ چند باتیں ایسی ہیں جو مجھے محسوس ہوئی ۔ ۔ ۔  ویسے تو یو اے بی نریٹر گروپ میں اتنے بڑے بڑے لوگ ہیں کہ وہ چاہیں تو  اس عنوان پر مستقل ایک کتاب لکھ دیں ،میرے تجربات پر مشتمل ایک عام فہم زبان میں لکھی گئی تحریر ہے امید ہے آپ کو پسند آئی ہوگی اگر کہیں کسی قسم کی غلطی ہو تو معاف کریں جزاک اللہ

Tuesday, 7 July 2020

اولاد کی تربیت اور پرورش



موجودہ زمانے میں بچوں کی تربیت اور پرورش  ایک پیچیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے عام طور پر والدین کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ بچوں کی تربیت و پرورش کیسے کی جائے  ۔ ۔ ۔  لہذا نو مولود بچوں سے لے کر نو جوان  عمر تک کے بچوں اور بچیوں کی تربیت اور پرورش کے عنوان   سے شارٹ کلیپ کی صورت میں  ویڈیو اس بلاگ پر اپ لوڈ کئے گئے ہیں احباب اس سے فائدہ اٹھائیں دوسروں تک بھی شئیر کریں


آفتاب عالم دستگیر پٹیل (کروشی)
بلگام کرناٹک (انڈیا)
8105493349

Bachiyon Ke Jazab e Mohabat Ko Sahi Sammat Dein

Bachi Ki Aisi tarbiyat Karein Ke Paeshan Kunn Haalat Ka Samana Kare


Bachi Ko Saheli Ka Intekhab Sikhayein 


Bachi Ko Mard Tutor Ke Pass Na Bhejein


Bachi Ki Nigrani Karna Zaruri Hai 


Bachi Ko Koi Bhi Cheez Padane Ke usool


Bachi Ki Izat gayi To wapis Nahi Aatai

Bache Ki Jawani Bedag Kaise Banayein

Ladkiyan Zyada Saaf Zehan Hoti Hain 

Bachi Ki Surat Nahi Seerat Ki Tarif Karein

Bachi Ko Internet Aazadana Taour Par Na Karne Dein 

Aurat Ka Asal Roop Haya

Beti ALLAH Taala Ki Rehmat 

Beti aur Baap Ka Taluk 

Bachi Ki Aisi tarbiyat Karein Ke Paeshan Kunn Haalat Ka Samana Kare

Bachiyon Ke Jazab e Mohabat Ko Sahi Sammat Dein 

Taalim Mein Technology

Padhayi e Liye Subjects

Bache Ke Sone Ka Timetable 

Bache Ki Taalim Ka Maqsad 

Bache Ko Faisla Aur Intekhab Karne Ka Mouqa Dein

Maa Bache Ko Bayein Janib Le Iss Se Bache Ko Sukun Milta Hai

Bache Ko 5 ya 6 Saal Se Pehle School Na Bhejein 

Bacho Ki Nafarmani Aur Usey kamm Karne Ka Tarika Beti ALLAH Taala Ki Rehmat

Bache Ki Parwarish Ke 10 nuqat

Ghar Mein Gair Rasmi Talim Ka Tarika Beti ALLAH Taala Ki Rehmat

Bache Ki Zehni Nash wa Numaa Ke 11 Marahil 

Bachi Ki Jawani Ko bedag Banane Ka Usool Beti ALLAH Taala Ki Rehmat 

Bache Ke Dimag Ki Jaduyi Khidkiyan 

4 aur 7 adad ki Khususiyat 

Bachon Ki Nashwa Numa Mein Taakhir 

Maa Baap Bache Ko Kaise Kareeb karsakte Hain 

Bache Ko Sab Se Pehle ALLAH Ka Naam Sikhyein

10 nuqat tarbiyat ke

Nou Moulud bache Ki Fitrat

Bache Ki Dimag Ki 11 jaduyi Khidkiyan

Junk Food 

Nou jawan aur Driving Junk Food 

Nou jawan aur Safety 

Ladkiyon Mein Balugat Ka Aagaz

12 se 20 Saal Ke Umar Ke Bachon Ke Saat Maa Baap Kis Tarha Ka Bartao karein

Bacho Ki Hifazat Ka Anmol Wazifa

Safar Mein Hifazat Ka Mujarb Amal

Bachon Ko Sukun Ki Neend Dilane Ka Amal

Bachon Ko Raat Mein bahar Bhejne Se Pehle Zarur Yeh Duwa Padayein



Sunday, 5 July 2020


تعلیمی میدان میں بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے ان پانچ قسطوں کو ضرور پڑھیں۔ ۔ ۔



آفتاب عالم دستگیر پٹیل کروشی
بلگام کرناٹک (انڈیا)
8105493349


ذریعہ تعلیم اردو یا انگریزی ؟؟
لارڈ میکالے قسط نمبر 01



ذریعہ تعلیم اردو یا انگریزی ؟؟
انگریزی اسکولوں کا سراب قسط نمبر 02




ذریعہ تعلیم اردو یا انگریزی ؟؟
اردو ہی کیوں۔۔۔؟؟ قسط نمبر03





ذریعہ تعلیم اردو یا انگریزی ؟؟
انگریزی کیوں نہیں۔۔۔؟ قسط نمبر4




ذریعہ تعلیم اردو یا انگریزی
(اردو اسکول کیسے ہوں۔۔؟)


کرناٹک اردو اکادمی ۔ ۔ ملک کی مثالی اردو اکادمی ۔ ۔ ۔

کرناٹک اردو اکادمی  ۔ ۔ ملک کی مثالی اردو اکادمی ۔ ۔ ۔ آفتاب عالم ؔ شاہ نوری بلگام کرناٹک 8105493349 "ہر اردو اکادمی اردو کا ای...