Friday, 26 June 2020


محمد بن قاسم سے یوروپی اقوام کی آمد  مکمل 31 قسطیں






آفتاب عالم دستگیر پٹیل کروشی
بلگام کرناٹک ( انڈیا )
8105493349
7019759431





محمد بن قاسم قسط 01


https://aftabalampatel.blogspot.com/2019/01/blog-post_25.html




امیر ناصر الدین سبکتگین قسط 02




سلطان الملت یمین الدولہ سلطان محمود غزنوی:قسط نمبر  03





شہاب الدین محمد غوری قسط نمبر 04




(سلطان قطب الدین ایبک قسط نمبر 05






شمس الدین التمش قسط نمبر 6





رضیہ بیگم  قسط نمبر 07


https://aftabalampatel.blogspot.com/2019/02/blog-post_11.html




ناصر الدین قسط نمبر 08




غیاث الدین بلبن قسط نمبر 09





جلال الدین فیروز شاہ خلجی قسط نمبر 10




علاؤالدین خلجی قسط نمبر  11





سلطان غیاث الدین تغلق شاہ  قسط نمبر 12




سلطان محمد شاہ تغلق قسط نمبر 13




فیروز شاہ تغلق قسط نمبر 14




ناصر الدین محمود بن ناصر الدین محمد قسط نمبر 15





سید خضر خان بن ملک سلیمان قسط نمبر 16




معززالدین ابوالفتح سید مبارک شاہ بن خضر خان قسط نمبر 17


بہلول خان لودھی قسط نمبر 18



سلطان عادل نظام خاں سکندر لودھی قسط نمبر 19


سلطان ابراہیم لودھی قسط نمبر 20
https://aftabalampatel.blogspot.com/2019/06/20-1517-1526-8105493349-1526-1206-1526.html



سلطان علاوالدین حسن گانگو بہمنی قسط نمبر 21


خاندان مغلیہ سے پہلے ہند کے حالات قسط نمبر 22


ظہیر الدین محمد بابر بادشاہ غازی قسط نمبر 23




نصیر الدین ہمایوں قسط نمبر 24



شیر شاہ سوری قسط نمبر 25





جلال الدین محمد اکبر اعظم قسط نمبر 26





نورالدین جہانگیر قسط نمبر 27




ابو المظفر محمد شہاب الدین شاہجہان قسط نمبر 28




اورنگ زیب عالمگیرؒ قسط نمبر 29




اورنگ زیب کے جانشین اور سلطنت مغلیہ کا زوال قسط نمبر 30


Wednesday, 24 June 2020

 چُنندہ  افسانچے


آفتاب عالم دستگیر پٹیل کروشی
بلگام کرناٹک ( انڈیا)
 +918105493349
+917019759431

لال رنگ کی بوتل



چائے کی پیالی لیتے ہوئے ،میں نے صاحبِ مکان سے کہا ۔ ۔ آپ نے مکان بڑا شاندار بنوایا ہے ۔ ۔۔ ! وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگےہاں صاحب بس جیسے تیسے بن گیا ۔ ۔ ۔ ۔! اچانک میری نظر گیٹ پر پڑی ۔ ۔ جہاں لال رنگ کی بوتلیں جگہ جگہ رکھی ہوئی تھیں ۔ ۔ ۔ میں ان بوتلوں کی طرف مسلسل دیکھتا جا رہا تھا۔۔ ۔میری پریشانی دیکھ صاحب مکان بولے آپ ان لال رنگ کی بوتلوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں نا ۔ ۔ ۔ ؟میں نے کہا جی ہاں ۔ ۔!کہنے لگے بھائی صاحب ایک نئی تحقیق سامنے آئی ہے ۔ ۔ اگر گھر کے سامنے لال رنگ کی بوتلیں رکھی جائیں ۔ ۔ تو ان بوتلوں کے اثر سے کتے ان کے قریب بھی نہیں آئیں گے ۔ ۔ ۔ میں بڑا حیران ہوا ۔ ۔ دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ ایسی دو چار بوتلیں مجھے بھی گھر لے چلنی چاہیئے ،کمبخت کتوں نے بڑا پریشان کر رکھا ہے ۔ ۔ ۔ اسی سوچ میں تھا کے ایک سیاہ رنگ کا کتا آیا اور اسی لال رنگ بوتل پر ٹانگ اٹھا کر پیشاب کرنے لگا ۔ ۔ ۔ اس منظر کو ہم دونوں نے دیکھا۔۔۔ مگر میں نے اَن دیکھی کر دی اور خاموشی سے چائے پیتا رہا ۔ ۔ صاحب مکان بولے جناب لگتا ہے۔۔۔! یہ کتا " رنگوں کے اندھے پن" Colour Blindness کے مرض میں مبتلہ ہے جس کی وجہ سے وہ سرخ رنگ میں تمیزنہ کرسکا ۔ ۔ ۔میں نے بھی صاحب مکان کی ہاں میں ہاں ملائی اور گھر لوٹ آیا۔۔۔۔۔۔۔

تعلیم ایک تجارت


" دبئی سے لوٹے، میرے ایک قریبی دوست نے مجھ سے پوچھا ۔ ۔ ۔ یار میں کوئی بزنس شروع کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ کوئی تجویز ہو تو بتاؤ ۔ ۔ ۔ ؟ میں نے کہا ۔ ۔ ۔ مسلمانوں کے کسی بھی محلے میں انگریزی میڈیم اسکول شروع کروا دو ۔ ۔ ۔ !یہ ایسی تجارت ہے جو تمہیں بہت بڑا تاجر بنا دے گی ۔ ۔ ۔ ! "

ان پڑھ کسان


ان پڑھ کسان نے شکایتاً مجھ سےکہا ۔ ۔ ۔!جناب میں گاؤں کی اُردو اسکول سے تنگ آچکا ہوں۔۔۔!اس بار بھی میرا لڑکا اول نمبر سے کامیاب ہوگیا ہے۔۔۔!میں نے کہا یہ تو بڑی خوشی کی بات ہے ۔۔۔!کہنے لگا خاک خوشی کی بات ہے۔۔۔!مجھے ڈر ہے اگریہ اسی طرح اول نمبر سے کامیاب ہوتارہا ،تو ایک دن ڈاکٹر یا انجنیر بن جائے گا۔۔۔! پھر میرے مویشیوں کو چارہ، کھیتوں میں ہل کون چلائے گا ۔۔۔؟میں نے کہا پھر آپ یوں کیجئے شہر کے کسی انگریزی میڈیم اسکول میں اپنے بچے کا داخلہ کروادیں۔۔۔نو۔۔دس۔۔ سال تک اسکول آپ کے بچے کی ذہنی صلاحیتوں کو تباہ کرکے آپ کو لوٹا دے گا ۔۔۔پھر چاہے آپ ہل چلوایں یا چاراکٹوائیں یہ آپ کی مرضی۔۔۔۔!

عقلمند بے وقوف


انگریزی تعلیم یافتہ ایک صاحب ۔ ۔ حج سے لوٹے اپنے کسی سسرالی رشتہ دار کے یہاں پہنچے ۔ ۔ ۔ حاجی صاحب نے گھر آئے داماد کو کچھ کھجوریں اور پانی پیش کیا ۔ ۔ ۔ ! داماد نے پانی کا پیالہ ہاتھ میں لیتے ہوئے پوچھا ۔ ۔ ۔ ؟ کیا یہ پانی فلٹر کا ہے۔ ۔ ۔ ؟ حاجی صاحب بولے داماد جی یہ زمزم کا پانی ہے ۔ ۔ ۔ ! داماد کہنے لگا ۔ ۔ وہ سب تو ٹھیک ہے مگر فلٹر تو ہے نا ۔ ۔ ۔ ؟حاجی صاحب کو داماد کی جہالت پر بہت غصہ آیا اور وہ خاموشی سے اندر چلے گئے ۔ ۔ ۔ !

نئے کپڑے


چھٹیاں گزارنے،جب بیوی ۔ ۔ ۔ بچوں سمیت میکے چلی گئ، تو حامد نے کمرے پر ایک نظر دوڑائی ۔ ۔ دیکھا ۔ ۔ ! نظروں سے کپڑے لتوں کا ایک وسیع انبار غائب تھا ۔ ۔ ! اگر کچھ باقی تھا تو صرف حامد کے چھید سے بھری بنیانیں ۔ ۔ ۔ !شادی کے دو چار پرانے جوڑے ۔ ۔ ! جسے حامد نے ہمیشہ نیا سمجھ کر ہی پہنا تھا ۔ ۔ ۔الماری سے جھانکتی کالر کٹی داغ دار قمیصیں ۔ ۔ ۔ اس نے دل میں ارادہ کیا اگلی عید پر اپنے لئے ضرور کپڑے خریدے گا ۔ ۔ ۔ ! پھر گھر کی ضروریات ۔ ۔ بچوں کی پڑھائی ۔ ۔ ۔ ماں کی دوائی اور ایسے کئی اخراجات نے ۔ ۔ کپڑوں کا خیال دل سے نکال دیا ۔ ۔ ۔ ۔ ! حامد کسی گہری سوچ و فکر میں کام پر نکل پڑا ۔ ۔ ۔ !


اولاد کا غم


جب صادقہ اپنے معصوم بچوں سمیت روتے ہوئے گھر میں داخل ہوئی ۔ ۔ ۔! تب باپ کو بیٹی کے دکھوں کا احساس ہوا ۔ ۔ ۔ ورنہ وہ تو روزانہ صادقہ کے واٹس ایپ اسٹیٹس پر ہنستی مسکراتی تصویریں دیکھ کر یہی سوچا کرتا تھا ۔ ۔ ۔ کہ اس کی بیٹی خوشحال زندگی بسر کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ پر افسوس ایسا کچھ نہیں تھا ۔ ۔ ! رنج میں ڈوبے باپ نے زور سے اپنے سینے کو دبوچا اور دھڑام سے زمین پر گر پڑا ۔ ۔ ۔ !

فارمی مرغی! ۔۔یا۔۔دیسی مرغی۔۔!

مہمان نے پہلا لقمہ منہ میں ڈالتے ہی بے ساختہ کہا ۔ ۔ ۔ ۔ !وااااہ کیا لذیذ کھانا بنا ہے ۔ ۔ ۔ کہیں یہ دیسی مرغی تو نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ؟ میں نے کہا جی ۔ ۔ ۔ میزبان کہنے لگے میں نے اور میرے اہل خانہ نے سینکڑوں فارمی مرغیاں چٹ کی ہیں،مگر جو مزہ دیسی مرغی میں ہے وہ فارمی مرغیوں میں ہے ہی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ! میں نے کہا فارمی مرغیوں میں چند چیزوں کی کمی ہوتی ہے،جس کی وجہ سے وہ لذیذ نہیں ہوتیں ۔ ۔ ۔مہمان حیران ہوکر پوچھنے لگے اچھا ۔ ۔ ۔ ۔ وہ کیا ہیں۔ ۔ ؟ میں نے کہا تربیت ، ہمت ، محنت ۔ ۔ ۔ مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کے آپ فارمی مرغیوں کو دیکھئے بیچاری یتیم بھی ہوتی ہیں اور لتیم بھی ۔ ۔ جس کی وجہ سے وہ شروع سے ہی تربیت سے محروم رہتی ہیں۔ ۔ ۔ دانا پانی کے لئے انہیں کسی طرح کی مشقت کی ضرورت نہیں ۔ ۔ جس کی وجہ سے ان میں سستی کاہلی آجاتی ہے۔۔اور یہ مرغیاں بزدل اتنی ہوتی ہیں۔۔۔ کے اگر بلی یا کتا ذرا سا جھپٹا مارے تو دل کے دورے سے مر جاتی ہیں ۔ ۔اس کے برخلاف آپ دیسی مرغی کو لیں ، مسلسل 21 دن تک مرغی انڈوں کو ممتا بھرے پروں کے آنچل میں دبائے رکھتی ہے۔۔۔جب بچے انڈوں سے نکلتے ہیں تو پہلے ہی دن سے مرغی اپنے چوزوں کو ہمت کا درس دیتی ہے کہ کس طرح دشمن سےمقابلہ کیا جائے، آپ نے دیکھا ہوگا اگر کوئی کتا یا بلی جھپٹا مارنے کی کوشش کرے تو مرغی اس پر حملہ کر دیتی ہے ،ایک عرصہ تک مرغی اپنے چوزوں کو ساتھ رکھ کر دانا چگنا سکھا تی ہے اور ان کی مکمل تربیت کرتی ہے، یہی چوزے جب تھوڑے بڑے ہوجائیں تو اپنی طاقت کا جوہر دکھانے کے لئے لڑائی بھی لڑتے ہیں۔۔اور ان میں سے بعض تو پیشہ وارانہ لڑاکو مرغ بن کر اپنا اور اپنے مالک کا نام روشن کر دیتے ہیں ۔۔۔میری اس گنجلک تقریر کے بعد مہمان نے بڑے ہی معصومانہ انداز میں کہا ۔۔۔۔اب میں سمجھا ۔۔۔۔! میں اور میرے بچے تن آساں، سست، کاہل اور بزدل کیوں ہیں۔۔۔۔یہ سب اسی فارمی مرغیوں کے صفات ہیں جو ہمارے اندر آچکے ہیں۔۔۔میں نے مسکراتے ہوئے ان کا دھیان سالن کی طرف کرتے ہوئے کہا ۔۔۔لیجئے نا آپ تو کچھ لے ہی نہیں رہے۔۔۔۔۔!


رنگین بال


گلی کے نکڑ پہ شیشوں سے چمچاتتی نائی کی دکان پر ،میں بال کٹوانے کے لئے گیا۔۔۔ دیکھا ۔ ۔ ۔ ! ایک سولہ سترہ سال کا لڑکا اپنے ٹیڑے میڑے بال۔۔ بڑے شوق سے رنگین کروا رہاتھا۔ ۔ ۔! جیسے ہی یہ کام مکمل ہوا، تو لڑکے نےجیب سے ۵٠٠ کے دو نوٹ نکالے اور نائی کےحوالے کرکےچلا گیا ۔ ۔ میں نے نائی سے کہا۔۔۔ بال تو ادھیڑ عمر کے لوگ ، اپنا بڑھاپا چھپانے کے لئے رنگین کرواتے ہیں،مگر اس بچے نے تو ابھی سے رنگنے شروع کر دئے ۔۔ ۔!نائی کہنے لگا صاحب۔ ۔ ۔ ! دولت کی فراوانی، والدین کی توجہ کی کمی اور مہنگے موبائیل پر غلط کاریوں نے اسے جلدہی بوڑھا کر دیا ہے۔۔۔۔!

پٹاخوں کا شور


پٹاخوں کے شور سے بیزار ۔ ۔ ۔میں ذہنی سکون کے لئےکھیتوں کی طرف چلا آیا۔۔۔
کیا دیکھتا ہوں۔۔۔۔تھوڑے ہی فاصلے پر میری ہی برادری کہ ایک بڑے میاں۔۔۔جو وضع قطع سے پکے مسلمان ، صوم صلاۃ کے پابند ۔۔۔ایک ہاتھ میں اگربتی اور دوسرے ہاتھ میں پٹاخوں کی لڑی لئے اچھال رہے ہیں۔۔۔۔
یہ منظر دیکھ کر میں سوچ میں پڑھ گیا آخر ان بڑے میاں کو کیا ہوا۔۔۔۔؟ کیا انہوں نے بھی کوئی بت بٹھا رکھا ہے۔۔۔۔؟ میرے اندر کے چھپے ہوئے ناصح نے آواز دی ، اور کہا ۔ ۔ ۔ جاؤ ان بڑے میاں کو خوب نصیحت کرو ۔ ۔ ۔
اوبڑ کھابڑ راستے سے ہوتا ہوا میں بڑے میاں کے قریب جا کر پہنچا ۔ ۔۔۔۔
ابھی کچھ بولا بھی نہیں تھا کہ مکئی کے کھیت سے بندروں کی ایک ٹولی پٹاخوں کے شور سے گاؤں کی طرف بھاگ رہی تھی ۔۔ ۔ ۔
بڑے میاں کہنے لگے بیٹا کیا بات ہے ۔ ۔ ۔ ؟
میں نے کہا ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں او کچھ نہیں ۔ ۔ ۔ بس یوں ہی گھومنے آیا تھا ۔ ۔۔۔
میں اپنی نادانی پر بڑا پشیمان ہوا ۔ ۔ اور میرے اندر کے چھپے اُسی ناصح نے دھیمی سی آواز میں مجھے نصحیت کی کہ بد گمانی سے بچو یہ انسان کو رسوا کر دیتی ہے۔ ۔ ۔ ۔!

این آر سی یا قوم کی بے بسی


اخبار کا پہلا صفحہ پلٹتے ہوئے،۔۔۔احمد نےلمبا سانس بھرا ۔۔۔ افسوس صد افسوس۔۔۔۔!
میں نے کہا ۔۔سب خیرت تو ہے۔۔۔۔؟
کہنے لگا ،۔۔۔اب سارے ملک میں " این آر سی" لاگو کیا جائے گا۔۔۔۔۔!
این آر سی "۔۔۔۔کیا ہے یہ "این آر سی"۔۔۔۔۔۔۔؟
کہنے لگا۔۔۔ 1951 سے ہمارے اجداد اور ہم اسی ملک کے شہری ہیں یہ ثابت کرنا ہوگا۔۔۔۔۔
میں نے کہا ۔۔۔اس کے لئے کیا کرنا ہوگا۔۔۔۔؟
کہنے لگا آبا و اجداد کے زمینوں کے کاغذات، ان کی تعلیمی اسناد وغیرہ بطور ثبوت حکومت کو پیش کرنی پڑینگی ۔۔۔۔
میں اسی فکر میں گھر آیا ۔۔،اور سیدھے مکان کی تیسری منزل پر گیا۔۔۔جہاں بہت ساری پرانی اور بوسیدہ چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔۔۔جہاں اکثر کوئی آتا جاتا بھی نہیں ہے ۔۔۔۔
مجھے دادا کی اس پرانی صندوق کی تلاش تھی ۔۔،جس کے متعلق میرا یہ گمان تھا شاید یہاں کچھ اسناد وغیرہ مل جائیں گی ، ۔۔۔۔
جوں ہی چیزوں کو ٹٹولنا شروع کیا ۔۔۔۔
اچانک میری نظر اس صندوق پر پڑی ۔۔۔جس پر سالوں کی جمی دھول کی ایک موٹی سی پرت تھی۔
جیسے ہی صندوق کھولا ۔۔۔اس میں ایک پھٹی پرانی دستار اور کچھ بوسیدہ کپڑے،پیتل اور تانبے کی کچھ چیزیں، پرانی تصویریں جس میں میرے خاندان کے بہت سارےافرادتھے،جن میں سے اکثر و بیشتر فوت بھی ہوچکے تھے۔۔
اسی کے نیچے تانبے کی تختی پر کنندہ شجرہ نسب ، زمین کے کاغذات ،اور دادا کی اسکول کی سند تھی۔۔۔
یہ ساری چیزیں دیکھ کر میں نے وہیں سے احمد کو فون کیا۔۔۔۔
احمد مجھے " این آر سی" والے سارے کاغذات مل گئے ،جس میں زمین کے کاغذات کے علاوہ ،۔۔ دادا کی اسکولی سند بھی ہے۔۔۔
احمد ۔۔۔۔اداسی بھرے انداز میں کہنے لگا مبارک ہو۔۔۔ !
تمہارے گھر والے بڑے سیانے ہیں جنہوں نے اتنی قیمتی چیزیں حفاظت سے سنبھال کر رکھی ہیں ۔۔۔


بیمار ڈاکٹر

شہر کے اسپتال میں ۔ ۔
اپنے کسی عزیز کی عیادت کے لئے پہنچا۔ ۔ ۔
مریض کو تلاش کر ہی رہا تھا کہ ۔۔۔
اچانک میری نظر، بستی کے معروف ڈاکٹر پر پڑی جو درد سے کراہ رہے تھے ۔ ۔
میں نے پوچھا۔۔۔
آپ اور یہاں۔۔۔؟؟ ۔ ۔ ۔ ۔ !کیوں کیا ہوا۔۔۔؟
کہنے لگے ڈینگی بخار۔ ۔ ۔
ڈینگی بخار۔۔ وہ بھی آپ کو۔۔! وہ کیسے ۔۔ ۔ ؟
کہنے لگے وائرل انفیکشن۔۔۔
وائرل انفیکشن ۔ ۔ ۔ !
میں نے تعجب سے پوچھا، ڈاکٹر صاحب میں تو یہ سمجھتا تھا یہ جتنے بھی انفیکشن اور امراض ہیں ،وہ ہم جیسے عام لوگوں پر ہی لاحق ہوتے ہیں ۔
ڈاکٹر صاحب نےمجھے حیرت زدہ نگاہوں سے دیکھا، اور کسی گہری سوچ میں کھو گئے ۔ ۔

آخری گلی

روز بروز گاؤں کی اردو اسکول سے بچوں کی گھٹتی تعداد کو دیکھ کر، ہیڈ ماسٹر صاحب نے اپنے اساتذہ کے ساتھ میٹینگ کی، جس میں یہ تہہ پایا کہ ہر گلی محلے میں لوگوں کو جمع کر کے اردو اسکول، مادری زبان کی اہمیت کو سمجھایا جائے ،اسی غرض سے سارے اساتذہ  گلی محلوں میں گھوم  پھرکر محنت کرنے لگے،شام ہوچکی تھی آخری گلی باقی تھی، اسی گلی کے  ایک نکڑ پر اسکول کے ماہر استاد اپنی شعلہ بیان تقریر کرنےلگے۔۔۔ "بھائیوں اردو ہی وہ  واحد زبان ہے جو  ہمیں اور ہماری نسلوں کو  ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے اور ہمیں دین  سمجھنے اور جاننے میں مدد دے سکتی ہے" ، جوں جوں شام ڈھلتی گئی کھیتوں سے  لوٹنے والےتھکے ماندے کسان اس بھیڑ کا حصہ بنتے گئے۔۔۔ لوگوں کے مجمع کو دیکھ کر ماہر استاد جوش میں آ گئے ابھی ان کی تقریر جاری ہی تھی کے شہر کی طرف سے انگریزی میڈیم اسکول کی پیلے رنگ کی بس آگئی   اس بس میں سے دو ننھے منے بچے دوڑتے دوڑتے اردو کے شعلہ بیان  مقرر سے لپٹ گئے اور کہنے لگے "گوڈ ایونگ پاپا" شعلہ بیان مقرر  کا جوش تو جیسے برف کی طرح ٹھنڈا ہوگیا۔۔۔ لوگوں نے اساتذہ  کا،اساتذہ نے ایک دوسرے کا  چہرہ دیکھنا شروع کیا ۔۔۔ سارا مجمع بنا کچھ کہے اپنے اپنے گھروں کو چلا گیا۔۔۔۔ شاید مجمع اردو اسکول کی اہمیت کو جان گیا  ہوگا۔۔۔۔!!!!!!

Tuesday, 9 June 2020

A Brief History Of Karoshi ( Karwaish )



Karoshi (Karwaish) is a village panchayat in Belgaum district of Karnataka state of India. Karoshi  is the educational and literary town of Belgaum district, an ancient village. The town is famous in the surrounding towns and villages because of the well-known elderly Sufi Hazrat Peer Raji  Noor Shah rehmatullah aleh, the Patel community in Karoshi is present in large numbers. Patel community is the descendants of Muhammad Meera Patel, the son of Sufi Hazrat Peer Raji  Noor Shah rehmatullah aleh sister. Fertile lands and greenery surrounding is beauty of this settlement.The main profession of the people here is farming. Besides this, a large section of teachers is serving in remote cities. In addition, a large section of the youth of this township is employed in Europe, US and Gulf countries and so on.

Geography
The village is located in northern Karnataka, 67 km from Belgaum City. Its neighboring to Maharashtra to name few towns nearby are Miraj, Sangli, Kolhapur etc.

History
Located 7km from Chikodi, this village is well known among people because of Hazrat Raji Noor Shah Rahmatullah alias Shah Noor Baba and the Gatti Baswana Temple. Hazrat Raji Noor Shah with regard to Rahmatullah alias Shah Noor Baba, people believe, sick and people who possessed evil are cure because of the glory of Baba.People belonging to different different faith visit Sha Noor Baba dargah to get blessing.Karoshi boasts of being a major and important township of Chikodi. This place has the distinction of being a major educational center. The geography of the village total area is 2407.6 hectares. According to the latest census, the population is estimated at 8,481. According to one survey, there are at least 1,919 houses. This area is considered for its agriculture and farming.

Hazrat Raji Noor Shah Urf Shah Noor Baba Dargah:
Karoshi is honored to have the privilege of Darulawalia and Bait-ul-Fukara presence. On this land, Hazrat Raji Noor alias Shah Noor Baba (RAH) Dahl declares, "These are the people who are with Allah. Who keep contact, fulfill the pledge.

You were a miracle
At that time, Bijapur was considered as the center of science and art where there were great discoveries and miracles. Hazart Shah Noor Baba used to busy in prayer in their monastery. As it is said that the existence of light in the darkness is very soon recognized, the news of your arrival and stay spread far away like wildfire, the news reached King Adil Shah, who was then on the throne. In your monastery, people from far away began to come and bless with Faiz. Yusuf Adil Shah started reaching you at least once every month to get blessing.

Conquest of the village of Karoshi
 It is said that Yusuf Adil Shah had a close relationship with him. One day when the king was with him, he received the news that the village ( Karoshi) had been conquered. King said "this village is conquered only because of your prayers, i gift this village to you".  He left to karoshi with honor and respect so that the candle of Islam could be lit in this gloomy darkness.

Hazrat Muhammad Meera Patel (RAH)

It is said that he managed the village as a Patel of Karoshi for many years but your personality was that of a tourist who relinquished the chains of private affairs. It was also ungrateful to give up the land given to him by Yusuf Adil Shah. Therefore, you handed over the whole manor to your sister's son, Hazrat Mohammad Mira. Today, it has been five hundred years since the patriarchy and landlord of this village has continued in the offspring of Hazrat Mohammed Meera Rahmatullah Alai. His descendants, Hazrat Sufi Nisar Ahmad Akhtar Patel (Qadri Chishti Junaidi), were alive at the time of compilation of this book and due to their constant
perseverance, we all are aware of the circumstances of Hazrat Raji Noor Shah alias Shah Noor Baba.

AdilShahi decree:

 The royal decree issued by Sultan Adil Shah regarding Karoshi extradition and landlord is still preserved in the patel family of Karoshi.This is the decree on which the seal of Adil Shah is recorded. It is recorded that Hazrat Raja Noor Shah Darwesh has been given the land of Karoshi at the behest of the king and the family has been given full powers to continue to receive the land from year to year. Sufi Nisar Ahmad Akhtar Patel (Qadri Chishti Junaidi) belong to same family.
Hazrat Shah Noor Baba Rahmatullah Alai Astana in Karoshi still an open source, where thousands of devotee still flock where Shah Noor Baba rested. A beautiful dome has been erected on this sacred shrine. Every summer Urs is celebrated with great enthusiasm, with thousands of people joining in from different communities and faith.



AFTABALAM DASTAGEER PATEL
KAROSHI
DIST : BELGAUM KARNATAKA 
INDIA
8105493349

Friday, 5 June 2020

کروشی پٹیل برادری شجرہ نسب

Karoshi Patel Family Tree 

Belgaum Karnataka 

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ : 
اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں کسی مرد صالح کا درجہ ایک دم بلند کر دیا جاتا ہے تو وہ جنتی بندہ پوچھتا ہے کہ اے پروردگار ! میرے درجہ اور مرتبہ میں یہ ترقی کس وجہ سے اور کہاں سے ہوئی ؟ جواب ملتا ہے کہ تیرے واسطے تیری فلاں اولاد کے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے ۔
 (مسند احمد)


تربیت سے تیری مَیں انجم کا ہم قسمت ہُوا
گھر مِرے اجداد کا سرمایۂ عزّت ہُوا

علامہ اقبالؒ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطری طور پر ایک محقق بنا کر پیدا کیا ہے، انسان ہر اس چیز کی تحقیق کرنا چاہتا ہے جو اس کے علم میں نہیں ہے، بعض کے سوالوں کے جوابات  تو آسانی  سے مل جاتے ہیں بعض کے جوابات نہیں مل پاتے ،اسی قسم کے تین بنیادی سوالات ہیں جس کے متعلق ہر انسان سوچتا  رہتا ہے۔۔۔۔ کہ"میں کون ہوں؟ "ہم کون ہیں ؟" ،"ہمارے کون ہیں"؟ میں کون ہوں یا ہم کون ہیں اس کا جواب عام طور پر گھر کے افراد کے واسطے سے مل جاتا ہے، تیسرا  سوال ہمارے کون ہیں اور کہاں ہیں  یعنی خونی رشتے دار ،اس کا جواب کم ہی افراد جانتے ہیں ، اللہ جزائے خیر دے  مرحوم نثار احمد پٹیل  چچا کے خاندان کے سارے افراد کو  جنہوں نے کروشی کی پٹیل برادری کا نسب نامہ سنبھال رکھا تھا ، میں احسان مند ہوں محمد صدیق پٹیل چچا، محبوب پاشا چچا ، توصیف بھائی،شاہد بھائی،اسد الزماں بھائی کا جنہوں نے 13 جنریشن تک کا مکمل نسب نامہ مجھے دیا ،  اگلی دو جنریشن کے ناموں  کو میں نے اللہ کا نام لے کر شروع کیا  تو میں حیران رہ   گیا کہ ہماری برادری سے تعلق رکھنے والے افراد ملک اور بیرون ملک میں کئی جگہ   بسے ہیں جن جن لوگوں سے بات کرتا  ان میں سے کئی افراد تو میرے اتنے قریبی رشتے دار  نکلے جس کا مجھے علم ہی نہیں تھا   الحمد للہ تقریباً  مسلسل 22 دن کے بعد یہ کام مکمل ہوا جب اسے چارٹ پر لکھنے لئے بیٹھا تو اس نسب نامے کا  ایک کارڈ شیٹ میں سمانا  نا ممکن تھا شروع سے کروشی کی پٹیل برادری   6 گڈّوں میں تقسیم ہے اس لئے میں نے اپنی آسانی کے لئے  ہر گڈّے کے ناموں کو الگ الگ صفحے میں تحریر کر دیا ۔جس سے کسی حد تک یہ کا آسان ہوگیا،





(1)مکتوم پٹیل کی اولاد محمد پٹیل گڈّا کہلاتی ہے

(2)سراج  پٹیل کی اولادبالا پٹیل گڈّا کہلاتی ہے

(3)قادرپٹیل کی اولادلاڈو  پٹیل گڈّا کہلاتی ہے

(4)امام پٹیل کی اولاد مکتوم پٹیل گڈّا کہلاتی ہے

(5)درویش پٹیل کی اولاد میراں  پٹیل گڈّا کہلاتی ہے

(6)باپو عرف بالا  پٹیل کی اولادگھوڑو  پٹیل گڈّا کہلاتی ہے

ہر گڈّے کے افراد کا مختصر تعارف

1۔ محمد پٹیل گڈّا

آبادی کے اعتبار سےیہ  گڈّا اول نمبر پر ہے،اس گڈّے کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس گڈّے کے افراد کو بہادری شجاعت اور کسی کام کو آگے  بڑ چڑھ کر کرنے کی نعمت سے نوازہ ہے ،  اس گڈّے اکثر و بیشتر افراد دنیاوی اعتبار سے بڑے بڑے عہدوں پر کام کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں۔

2۔ بالا پٹیل گڈّا

اس گڈّے کی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بیک وقت اس گڈّے میں ایسے افراد پیدا کئے ہیں جو دینوی اور دنیوی  زندگی میں اپنا نام روشن کیا ،

3۔ لاڈو گڈّا

اس گڈّے کے اکثر و بیشتر افراد کو اللہ تعالیٰ سیاسی سمجھ بوجھ عطا کی ہے۔

6،5،4 : مکتوم پٹیل گڈّا،میراں  پٹیل گڈّا، گھوڑو  پٹیل گڈّا
اس  گڈّے کے اکثر و بیشتر افراد خاموش طبیعت ہیں اس کے علاوہ دین دنیا میں اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔۔


محمد پٹیل گڈّا 





بالا پٹیل گڈّا 



لاڈو  پٹیل گڈّا



مکتوم پٹیل گڈّا



میراں  پٹیل گڈّا 


گھوڑو  پٹیل گڈّا 



کروشی پٹیل برادری سے تعلق رکھنے والے گاؤں اور شہر :

مندرجہ ذیل میں شہروں اور گاؤں کا ذکر ہے جہاں سالوں سے ان کے درمیان
رشتہ داریاں رہی ہیں،

شیڑشال،بستواڑ،الاس، اورواڑ، میرج،وڈی،  بلگام،کڑےگاؤں،فقیرباڑا،رکڑی، شیرولی، کتیانی، ہیرےکوڑی،الہ اباد،ہلدی،بیلےواڑی،جنیاڑ،ارجن باڑہ، تمنک باڑا،کاساری،باروا،روزے باغنی،دیندےواڑی،ہکیری،مسرگوپا،مغل بستواڑ،گوڑاڑ،اکتن ناڑ،کندرگی،پاچاپور،انکلا،ماونور،گوڑچنملکی،چمپا ہسور،بساپور، کڑچی،
اس کے علاوہ پچاسوں ایسے گاؤں شہر ہیں جہاں پر کروشی کی پٹیل برادی روزگار کے سلسے میں سالوں سے مقیم ہے جن میں کولھاپور، ستارا،پونا،بمبئی،بیجاپور،گلبرگہ،بنگلور، مہاراشڑرا  کرناٹک کے کئی اضلاع اور عرب ممالک، امریکہ (مچیگن) لندن، ملیشیا وغیرہ وغیرہ۔۔۔

نسب  نامہ بھیجنے کا مقصد:  اس نسب نامے کو ترتیب دے کر بھیجنے کا یہی مقصد ہے کہ آپسی تعلقات مضبوط ہوں جو گاؤں سے دور ہیں وہ کم از کم سال میں ایک دو بار آکر ملاقات کریں   اور آپس میں اتحاد و اتفاق کے ساتھ مل جھل کر رہیں۔۔۔

نوٹ : اگر کوئی ڈی ٹی پی میں ماہر ہے تو ان الگ الگ گڈّوں کو ایک ہی شیٹ میں بنانے کی تدبیر بتائے اور اس میں ہمارا ساتھ دے ۔۔۔

KAROSHI PATEL FAMILY TREE PDF FILE IN 
ENGLISH


01 MUHAMMAD PATEL GADDA

02 BALA PATEL GADDA

03 LADU PATEL GADDA

04 MAKTUM PATEL GADDA

05 MEERA PATEL GADDA

06 GHUDDU PATEL GADDA






طالب دعا : آفتاب عالم دستگیر پٹیل کروشی
بلگام  کرناٹک (انڈیا)
8105493349
7019759431

کرناٹک اردو اکادمی ۔ ۔ ملک کی مثالی اردو اکادمی ۔ ۔ ۔

کرناٹک اردو اکادمی  ۔ ۔ ملک کی مثالی اردو اکادمی ۔ ۔ ۔ آفتاب عالم ؔ شاہ نوری بلگام کرناٹک 8105493349 "ہر اردو اکادمی اردو کا ای...